صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 526 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 526

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲۶ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد بَاب ۲۳ : الْحَجُّ عَمَّنْ لَّا يَسْتَطِيعُ النُّبُوْتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ اس شخص کی طرف سے حج کرنا جو اونٹنی پر بیٹھ نہ سکتا ہو ١٨٥٣ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۱۸۵۳ : ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن شہاب ہے، يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ انہوں نے سلیمان بن یسار سے سلیمان نے حضرت ابن عباس سے، انہوں نے حضرت فضل بن عباس عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ امْرَأَةً ۔۔۔ ح رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ ایک عورت ۔ سے اطرافه: 1٥١٣ ، 1854 ، 1855، 4399، ٦٢٢٨۔ ١٨٥٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۸۵۴: (نیز) موسی بن اسماعیل نے بھی ہم سے بیان إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي کیا کہ عبد العزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سلیمان بن یسار سے، ابْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ سلیمان نے (حضرت فضل ) ابن عباس رضی اللہ عنہا عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَنْعَمَم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حجۃ الوداع داع کے سال عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَتْ يَا رَسُولَ الله قبیلہ شتم کی ایک عورت آئی کہنے گی یا رسول الله امج سے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرض جو اپنے بندوں پر ہے، وہ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَج ایسی حالت میں نازل ہوا ہے کہ باپ میرا بہت ہی أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْئًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ بوڑھا ہو چکا تھا۔ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا تھا تو کیا أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي اس کی طرف سے ادا ہو جائے گا، اگر میں اس کی جگہ عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ۔ حج کروں؟ فرمایا: ہاں ۔ اطرافه ١٥١٣، 1853 ، 1855 ، 4399، ٦٢٢٨۔ تشريح : الْحَجَّ عَمَّنْ لَّا يَسْتَطِيعُ الثَّبُوت : امام مالک اور امام شافی کے نزدیک حج کا فریضہ ایسانہیں جو کسی کی طرف ۔ رف سے بطور بدلا بدل ادا ہو سکے۔ امام ابو حنیفہ ے۔ امام ابو حنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بھی یہی فتوی دیا ہے۔ لیکن حج بطور نفل کے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ادا کیا جا سکتا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک نفلی حج بھی بطور بدل ادا نہیں کیا جاسکتا؟ اگر کوئی شخص قدرت رکھتا ہو۔ کیونکہ اس فریضہ کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ بذات خود ادا کیا جائے۔ یہ باب اسی اختلاف کے پیش نظر قائم کیا گیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحه ۸۶) خلاصہ یہ کہ بصورت عدم قدرت حج بطور بدل ادا ہو سکتا ہے۔