صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 525
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲۵ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد تشريح : سُنَّةُ الْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ : یہ باب سابقہ باب کے قتل میں قائم کیا گیا۔ میں ہی قائم کیا گیا ہے اور اس سے یہ بتانا ود ہے کہ حج میں موت جو وار جو واقع ہوئی تھی ؟ ہوئی تھی ، وہ شہادت کا درجہ رکھتی تھی۔ اس لئے فوت ہونے وا۔ مقصود ہونے والے کی طرف سے بقیہ ارکان حج کی ادائیگی ضروری نہ تھی ۔ ورنہ میت کی طرف سے بھی حج بطور بدل ادا کیا جا سکتا ہے اور کمزور شخص کی طرف سے بھی۔ اسی طرح نذر بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۱۸۵۴۱۸۵۲) بَاب ۲۲ : الْحَجُّ وَالنُّذُورُ عَنِ الْمَيِّتِ وَالرَّجُلُ يَحُجُّ عَنِ الْمَرْأَةِ میت کی طرف سے حج اور نڈر ادا کرنا اور مرد جو عورت کی طرف سے حج کرے ١٨٥٢ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۸۵۲ : موسیٰ بن اسماعیل ۔ نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةَ رضى اللہ عنہما سے روایت کی کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت مِنْ جُهَيْئَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَن ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی۔ مگر اس نے حج نہیں کیا اور مرگئی تو کیا میں اس کی طرف سے حج تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُج کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس کی طرف سے حج عَنْهَا قَالَ نَعَمْ حُبِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ کروں۔ بھلا بتاؤ تو سہی! اگر تمہاری ماں پر کوئی قرضہ ہو كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ تو یا تم اسے ادا کروگی ؟ اللہ کا قرضہ بھی ادا کروں کیونکہ اقْضُوا اللَّهَ فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ۔ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کے ساتھ وفا کی جائے۔ اطرافه ٦٦٩٩، ٧٣١٥۔ صلى الله عليه تشريح : الرَّجُلُ يَحْجُ عَنِ الْمَرأةِ: روایت نمبر ۱۸۵ میں ایک عورت کا ذکر ہے جس نے آنحضرت سے -------- سے مسئلہ دریافت کیا کہ آیا وہ اپنی ماں کی طرف سے حج ادا کر سکتی ہے۔ لیکن عنوان باب میں ہے کہ مرد عورت کی طرف سے حج کرے۔ بعض شارحین نے یہ سوال اُٹھا کر اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اقْضُوا اللهَ فَاللَّهُ اَحَقُّ بِالْوَفَاءِ میں عمومیت ہے۔ مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔ حسن بن صالح کے سوا سب فقہاء کو اتفاق ہے کہ مرد عورت کی طرف سے حج کر سکتا ہے۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ امام بخاری نے شعبہ کی اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو ابوالبشر کی طرف منسوب ہے۔ اس میں ہے کہ ایک مرد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ نہ کر سکی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مذکورہ بالا جواب دیا۔ یه روایت دیکھئے کتاب الأيمان والنذور (روایت نمبر ۶۶۹۹) میں۔