صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 38
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸ بَاب ۱۱ : فَضْلُ صَدَقَةِ الشَّحِيْحِ الصَّحِيحِ بخیل حریص جو تندرست ہو اُس کے صدقہ دینے کی فضیلت ٢٤ - كتاب الزكاة لِقَوْلِهِ: وَأَنْفِقُوا مِنْ مَّا رَزَقْنَكُمْ مِنْ ( الله تعالی فرماتا ہے: جو کچھ بھی ہم نے تم کو دیا ہے، قبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اس سے خرچ کرو۔پیشتر اس کے کہ تم میں سے کسی کو (المنافقون: ۱۱) الآية۔موت کا وقت آجائے۔وَقَوْلِهِ : يَا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا أَنْفِقُوامِا نیز (اللہ تعالیٰ کا ) یہ قول کہ اے مومنو! جو کچھ ہم نے تم رَزَقْتُكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِي يَوْمُ لا بَيْع کو دیا ہے، اس سے خرچ کر دو پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی (اور نہ دوستی فِيهِ (البقرة: ٢٥٥) الْآيَة۔اور نہ سفارش) ١٤١٩: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۴۱۹ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ) کہا :) عبدالواحد ( بن زیاد ) نے ہم سے بیان کیا۔( عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ (انہوں نے کہا: ) عمارہ بن قعقاع نے ہمیں بتایا ( کہا :) حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ابوزرعہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا : ) ہم جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَيُّ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ کے پاس آیا۔اس نے کہا: یا رسول اللہ ! ثواب میں وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيْحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ كونا صدقہ بڑھ کر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو صدقہ وَتَأْمُلُ الْغِنَى وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا کرے جب تو تندرست ہو۔مال حاصل کرنے کی بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا خواہش رکھتا ہو اور بخیل ہو محتاجی سے ڈرے اور مال وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ۔دار ہونے کی امید رکھتا ہو اور اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق میں آپہنچے اور تو کہے کہ فلاں کو اتنا دینا۔فلاں کو اتنا اطرافه ٢٧٤٨ د بینا۔حالانکہ فلاں کا تو ہو ہی چکا ہے۔