صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 522 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 522

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲۲ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد ١٨٤٨: وَعَضَّ رَجُلٌ يَدَ رَجُلٍ ۱۸۴۸: اور ایک شخص نے ایک شخص کا ہاتھ دانت يَعْنِي فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ فَأَبْطَلَهُ النَّبِيُّ سے کاٹا۔ اس نے جھٹکا دے کر اس کا سامنے کا دانت نکال دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ دیا۔ (یعنی اس کا کوئی قصاص نہیں دلایا۔) اطرافه: ۲۲٦٥، ۲۹۷۳، 4417، 6893۔ تشريح : إِذَا أَحْرَمَ جَاهِلًا وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ : امام الوضی اور فقہاء کوف نے مسلم اور فقہاء کوفہ نے مسئلہ معنونہ کے بارے میں سختی سے کام لیا ہے اور ارکان حج وغیرہ میں کوتاہی پر کفارہ تجویز کیا ہے۔ ان کے نزدیک قانون کی ناواقفیت غلطی کی پاداش سے بری نہیں تھہراتی ، خصوصاً جبکہ شریعت کا حکم نافذ ہو چکا ہو۔ لیکن ان فقہاء کے نزدیک بھی علم ہونے پر کوئی اپنا سلا ہوا کپڑا اُتار دے اور خوشبو دور کر دے تو اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا۔ اگر علم کے باوجود کوئی مناسک حج کو اسی حالت میں ادا کرتا رہے تو پھر فدیہ ضروری ہے۔ امام شافعی نے حدیث محولہ بالا سے ان دونوں کی رائے کے خلاف استدلال کیا ہے کہ سائل نا واقفیت سے دیر تک بحالت احرام رہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کسی قسم کا کفارہ دینے کی ہدایت نہیں فرمائی۔ یہ روایت یہاں مختصر ہے؛ مگر کتاب العمرة باب نمبرہ اروایت نمبر ۱۷۸۹ میں مفصل گذر چکی ہے۔ بعض نے اس روایت سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ اس وقت تک حکم نازل نہیں : ا نازل نہیں ہوا تھا؟ اس لئے محرم مکلف نہ تھا۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحه ۸۲ ) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۳۱۰،۳۰۹) امام بخاری کارجحان ایسے مسائل سائل میں میں سہولہ سہولت کی طرف ہے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: يَسِّرُوا وَلَا تُعَبِّرُوا۔ (کتاب العلم بابا اروایت نمبر ۶۹) اس لئے عنوانِ باب کو شرطیہ رکھ کر بغیر جواب چھوڑ دیا ہے اور عطاء بن ابی رباح کا جو حوالہ دیا ہے، وہ طبرانی نے اپنی کتاب المعجم الکبیر میں موصولا نقل کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۸۲ ) اور محولہ بالا روایت بھی عطاء بن ابی رباح سے ہی مروی ہے۔ اگر کفارہ وغیرہ ہوتا تو وہ لاعلم نہیں رہ سکتے تھے۔ عَضَّ رَجُلٌ يَدَ رَجُلٍ : یہ ایک روایت کا اقتباس ہے جو - جو كتاب الإجارة ( روایت نمبر ۲۲۶۵)، کتاب الجهاد والسير (روایت نمبر ۲۹۷۳)، كتاب المغازی ( روایت نمبر ۴۴۱۷) اور کتاب الديات (روایت نمبر ۶۸۹۳) میں وضاحت سے آئے گی ۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حالات کے پیش نظر فتوی دیا ہے۔