صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 521
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲۱ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد احرام کے مکہ میں آ جا سکتا ہے۔ اسی طرح عام حالات میں ہر شخص ۔ باقی تین آئمہ سے دونوں طرح قول منقول ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۷ ۷ ) محولہ بالا روایت سے امام شافعی کی تائید ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم جو دیا تھا ؟ قصاص کی وجہ سے تھا۔ کیونکہ اس نے ایک مسلمان سے غداری کر کے اسے قتل کر دیا تھا ۔ أَنَّ الْكَعْبَةَ لَا تُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا تَمْنَعُ مِنْ إِقَامَةِ حَدٍ۔ یعنی کعبہ کسی نا فرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ جس پر حد قائم ہو چکی ہو، اس کو محفوظ کرتا ہے۔ (فتح الباری جز ۴ صفحہ ۷۹ تا ۸۱ ) نیز دیکھئے روایت نمبر ۱۸۳۲ - إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيدُ عَاصِيًّا وَلَا فَارًا بِدَمٍ وَلَا فَارًا بِخُرُبَةٍ خُرُبَةٌ بَلِيَّةٌ - حرم باغی کو پناہ نہیں دیتا اور نہ اس شخص کو جو خون کر کے بھاگا ہو اور نہ اس شخص کو جو کوئی خرابی کر کے بھاگا ہو، ایسی خرابی جو کہ مصیبت کا باعث ہو۔ بَاب ۱۹ : إِذَا أَحْرَمَ جَاهِلًا وَعَلَيْهِ قَمِيْصٌ جب احرام باندھے اور نا واقفیت سے وہ قمیص پہنے ہوئے ہو وَقَالَ عَطَاءٌ إِذَا تَطَيَّبَ أَوْ لَبِسَ اور عطاء بن ابی رباح) نے کہا: اگر وہ خوشبو لگائے یا جَاهِلًا أَوْ نَاسِيًا فَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ۔ کپڑ ا سلا ہوا پہنے؛ ناواقفیت سے یا بھول کر تو اُس پر کوئی کفارہ نہیں ۔ ١٨٤٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۱۸۴۷: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ قَالَ حَدَّثَنِي ہمیں بتایا۔ عطاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: صفوان بن صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى عَنْ أَبِيْهِ یعلی نے مجھے بتایا۔ ان کے باپ سے مروی ہے کہ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا جو جبہ پہنے تھا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ فِيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ أَوْ نَحْوُهُ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ اور اس پر زرد یا اسی طرح کا نشان تھا۔ حضرت عمر مجھے نَحْوُهُ سے کہا کرتے تھے۔ کیا تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لي تُحِبُّ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ کو ایسی حالت میں دیکھنا چاہتے ہو۔ جب آپ پر تَرَاهُ فَنَزَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ وحی نازل ہو رہی ہو۔ آپؐ پر وحی نازل ہوئی۔ پھر اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي آپؐ سے وحی کی حالت جاتی رہی اور آپ نے فرمایا: حَجِّكَ۔ اطرافه: ١٥٣٦، ١٧٨٩، ٤٣٢٩، ٤٩٨٥۔ اپنے عمرہ میں وہ کر جو تو اپنے حج میں کرتا ہے۔