صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 520
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲۰ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ صلى الله علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ کو قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَن يَلَمْلَمَ هُنَّ ميقات مقرر کیا اور نجد والوں کے لئے قرن المنازل کو اور یمن والوں کے لئے یلملم کو۔یہ میقات ان کے لئے لَهُنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ ہیں اور ہر اُس آنے والے کے لئے جس کا گذر وہاں غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ سے ہو۔یعنی وہ حج وعمرہ کا ارادہ کریں اور جو ان كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى مقامات کے ورے ہوں، اُن کے لئے جہاں سے وہ أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَّكَّةَ۔چلیں حتی کہ مکہ والے مکہ سے (احرام باندھیں )۔اطرافه ١٥٢٤، ١٥٢٦، ۱۵۲۹، ۱۵۳۰ ١٨٤٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۸۴۶: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابِ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اللهُ عَنْهُ أَنَّ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں ) فتح دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ کے سال داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا۔فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ جب آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا خَطَلٍ مُتَعَلَّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ که این خطل کعبہ کے پردوں سے لڑکا ہوا ہے تو آپ اقْتُلُوهُ۔اطرافه: ٣٠٤٤، ٤٢٨٦، ٠٥٨٠٨ نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔تشریح : : دُخُولُ الْحَرَمِ وَمَكَةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ عنوان باب میں جو حوالہ حضرت ابن عمر سے متعلق دیا گیا ہے؛ وہ امام مالک نے موطا میں نافع سے موصول نقل کیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ سے آئے اور جب قدید میں پہنچے تو انہیں لڑائی کا علم ہوا تو وہیں سے لوٹے اور بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔(موطا امام مالک، کتاب الحج، باب جامع الحج) فقہاء میں اس مسئلہ کے متعلق اختلاف ہے۔امام شافعی کے نزدیک کا روباری آدمی بغیر