صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 519 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 519

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۱۹ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد إِسْرَائِيْلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحق سے، عَنْهُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابو الحق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ذیقعدہ میں عمرہ کیا تو اہل مکہ نے آپ کو داخل ہونے مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوْهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى کی اجازت دینے سے انکار کر دیا؟ جب تک کہ آپ قَاضَاهُمْ لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ سِلَاحًا إِلَّا فِي یہ شرط نہ کرلیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں برہنہ ہتھیار لے کر الْقِرَابِ۔داخل نہیں ہوں گے۔اطرافه: ۱۷۸۱، ۲۶۹۸، ۲۶۹۹، ۲۷۰۰، ٣١٨٤، ٤٢٥١۔تشریح: لُبْسُ السّلاح لِلْمُحْرِمِ یہ باب بھی سابقہ مضمون سے متعلق ہے۔حسن بصری کے نزدیک بحالت احرام ہتھیار باندھنا مکروہ ہے؛ مگر عنوان باب میں عکرمہ کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس سے روایت نمبر ۱۸۴۴ کی تائید ہوتی ہے کہ عند الضرورت ہتھیار باندھنا ممنوع نہیں۔امام ابن حجر کو عکرمہ کے قول کا حوالہ کہیں نہیں ملا۔مگر انہوں نے الفاظ وَلَمْ يُتَابَعُ عَلَيْهِ فِی الْفِدْيَةِ سے ضمنا استدلال کیا ہے۔اس جملے کے یہ معنے ہیں کہ فدیہ دینے کے بارہ میں کسی نے ان کی تائید نہیں کی۔اس سے پایا جاتا ہے کہ خطرے کے وقت ہتھیار پہننے کے جواز میں عکرمہ کی طرح دوسروں نے بھی فتوی دیا ہے۔(فتح الباری جزء یہ صفحہ ہے ) اس تعلق میں کتاب العید بین باب نمبر 9 بھی دیکھئے۔باب ۱۸: دُخُولُ الْحَرَمِ وَمَكَةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ حرم اور مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونا وَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ {حَلَالًا} وَإِنَّمَا اور حضرت ابن عمر داخل ہوئے { جبکہ آپ بغیر أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احرام تھے۔نبی ﷺ نے صرف اسی کو احرام باندھنے بِالْإِهْلَالِ لِمَنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ کا حکم دیا تھا جس نے حج اور عمرہ کا ارادہ کیا ہو۔اور وَلَمْ يَذْكُرْهُ لِلْحَطَّابِيْنَ وَغَيْرِهِمْ۔لکڑ ہاروں وغیرہ کے لئے اس پابندی کا ذکر نہیں۔١٨٤٥: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا :۱۸۴۵: مسلم نے ہم سے بیان کیا۔وہیب نے وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ ہمیں بتایا۔(عبد اللہ ) بن طاؤس نے ہم سے بیان لفظ ”حَلالاً، فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جز ۴ حاشیہ صفحہ ۷۷ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔