صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 518
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۱۸ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد بَاب ١٦ : إِذَا لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ کسی کے پاس تہ بند نہ ہو تو چاہیے کہ پاجامہ پہن لے ١٨٤٣ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۸۴۳: آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار نے ہم سے زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بیان کیا۔ انہوں نے جابر بن زید سے، جابر نے قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ہم وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ مَنْ لَّمْ يَجِدِ سے مخاطب ہوئے اور آپ نے فرمایا: جس کے پاس الْإِزَارَ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيْلَ وَمَنْ لَّمْ تہہ بند نہ ہو؛ چاہیے کہ وہ پاجامہ پہن لے۔ جس کے يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ۔ پاس جوتا نہ ہو؛ چاہیے کہ وہ موزے پہن لے۔ اطرافه: ١٧٤٠ ، ١٨٤١ ، 5804، 5853 تشریح : فقہاء نے بحالت احرام مناسک حج میں کوتاہی یا خلاف ورزی کے تعلق میں یہ سال اٹھایا ہے کہ آیا فدیہ یا کفارہ لازم آتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے پیش نظر ان ابواب میں مسائل متعلقہ احرام وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جمہور کے نزدیک شلوار اور موزے کاٹ کر استعمال کرنے ضروری ہیں؟ اگر بغیر کاٹے پہنے گا تو اس پر فدیہ لازم آئے گا۔ امام احمد بن حنبل اور امام شافعی کے نزدیک نہ کاٹنا ضروری ہے اور نہ فدیہ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۷۵ ) ( بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى الكفارات المسكوت عنها عنوان باب (نمبر ۱۵) سے اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں موزے کاٹنے کا ذکر نہیں ہے۔ بَاب ۱۷ : لُبْسُ السِّلَاحِ لِلْمُحْرِمِ محرم کے لئے ہتھیار باندھنا وَقَالَ عِكْرِمَةُ إِذَا خَشِيَ الْعَدُوَّ لَبِسَ اور عکرمہ نے کہا: جب دشمن کا ڈر ہو تو ہتھیار باندھے السَّلَاحَ وَافْتَدَى وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ فِي اور فدیہ دے ۔ لیکن فدیہ سے متعلق کسی اور نے ان کی الْفِدْيَةِ۔ تائید نہیں کی۔ ١٨٤٤ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ۱۸۴۴ : عبید اللہ بن موسیٰ ) نے ہم سے بیان کیا۔