صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 515 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 515

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۱۵ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد ہے، اس کی تائید میں امام مالک کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے جو موطا میں آئی ہے۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الحج، باب تخمير المحرم وجهه ای طرح عبید اللہ بن عمر العمری کی روایت کا بھی جو اسحاق بن راہویہ نے اپنی سند میں نقل کی ہے اور یہ امام بخاری کے شیخ ہیں ۔ اسی طرح موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کی روایت کا بھی حوالہ دیا۔ ان حوالوں کے لئے دیکھئے: فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۷۰۰۶۹ - عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۱۹۹ - یہ مضمون کتاب الحج باب نمبر ۱۷، ۱۸ اور ۲۱ میں بھی مذکور ہے۔ روایت نمبر ۱۸۳۹ کے لئے دیکھئے کتاب الجنائز باب ۲۰،۱۹، ۲۱۔ بَاب ١٤ : الْإِفْتِسَالُ لِلْمُحْرِمِ محرم کا غسل کرنا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ محرم حمام يَدْخُلُ الْمُحْرِمُ الْحَمَّامَ وَلَمْ يَرَ میں جاسکتا ہے اور حضرت ابن عمرؓ اور حضرت عائشہ ابْنُ عُمَرَ وَعَائِشَةُ بِالْحَقِّ بَأْسًا ۔ کے نزدیک ( بدن کو ) کھجلانے میں کوئی حرج نہیں ۔ ١٨٤٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۸۴۰ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زید نے ابراہیم بن عبداللہ بن حسین سے، انہوں نے حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْعَبَّاسِ اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباس وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ اور حضرت مسور بن مخرمہ نے ابواء میں (مسئلہ نسل میں ) فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ اختلاف کیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا: محرم الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ اپنا سر دھو سکتا ہے اور حضرت مسور نے کہا: محرم اپنا سر الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نہیں دھو سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے مجھے حضرت الْعَبَّاسِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ابوایوب انصاری کے پاس بھیجا۔ میں نے انہیں دو فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ لکڑیوں کے درمیان نہاتے ہوئے پایا۔ ان پر کپڑے يُسْتَرُ بِقَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ سے پردہ کیا گیا تھا۔ میں نے اُن کو السلام علیکم کہا تو هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ انہوں نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ