صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 514
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۱۴ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد وَلَا تَلْبَسِ الْقُفَّازَيْنِ تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ جویریہ اور ابن اسحاق نے بھی نقاب اور دستانوں سے عُقْبَةَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ متعلق یہی بیان کیا ہے اور عبید اللہ بن عمر نے بھی وَجُوَيْرِيَةُ وَابْنُ إِسْحَاقَ فِي النِّقَابِ (اپنی روایت میں ) یہ کہا: اور نہ درس۔ اور وہ یہ بھی وَالْقُفَّازَيْنِ۔ وَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ وَلَا وَرْسٌ کہتے تھے کہ محرمہ نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے۔ وَكَانَ يَقُوْلُ لَا تَنْتَقِبِ الْمُحْرِمَةُ وَلَا مالک نے نافع سے نقل کیا کہ حضرت ابن عمر سے تَلْبَسِ الْقُفَّازَيْنِ۔ وَقَالَ مَالِكٌ عَنْ نَافِعِ مروی ہے: محرمہ نقاب نہ ڈالے اور مالک کی طرح عَنِ ابْنِ عُمَرَ لَا تَتَنَقَّبِ الْمُحْرِمَةُ۔ لیث بن ابی سلیم نے بھی یہی نقل کیا ہے۔ وَتَابَعَهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ۔ اطرافه ١٣٤، ٣٦٦ ، ١٥٤٢، ١٨٤٢، ٥٧٩٤، ٥٨٠٣، ٥٨٠٥، ٥٨٠٦، ٥٨٤٧، ٥٨٥٢ ۱۸۳۹ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ۱۸۳۹: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور مورلے نے حکم تم سے، حکم جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس قَالَ وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ ضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اُس کی گردن توڑ دی فَأُتِيَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلُوْهُ وَكَفْنُوهُ وَلَا اور مارڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ اور اسے کفناؤ تُغَطَّوْا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوْهُ طِيْبًا فَإِنَّهُ اور اس کا سر نہ ڈھانپو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، کیونکہ وہ يُبْعَثُ يُهِلُّ۔ لبیک کہتے ہوئے اُٹھایا جائے گا۔ اطرافه ١٢٦٥، ١٢٦٦، ١٢٦٧، ١٢٦٨، ١٨٤٩ ، 1850، 1851۔ تشريح : مَا يُنْهَى مِنَ الطَّيِّبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ : حرم کے معلق مجموعہ باتوں کے ضمن میں روایت نمبر ۱۸۳۸ لائی گئی ۔ ہے۔ اس روایت میں لباس وغیرہ کی ممانعت کا بھی ذکر ہے مگر عنوان باب کو خوشبو لگانے سے مخصوص کیا ہے۔ کتاب الحج باب نمبر ۲۱ کی روایت نمبر ۱۵۴۲ میں نقاب یا دستانوں کا ذکر نہیں۔ دونوں روایتیں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہیں؛ مگر سندیں مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک روایت میں جو بات زیادہ مروی