صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 514 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 514

صحيح البخاري - جلد۳ ۵۱۴ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد وَلَا تَلْبَس الْقُفَّازَيْنِ تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ جویریہ اور ابن اسحاق نے بھی نقاب اور دستانوں سے عُقْبَةَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ عُقْبَةَ متعلق یہی بیان کیا ہے اور عبید اللہ بن عمر نے بھی وَجُوَيْرِيَةُ وَابْنُ إِسْحَاقَ فِي النِّقَابِ اپنی روایت میں ) یہ کہا: اور نہ ورس۔اور وہ یہ بھی وَالْقُفَّازَيْنِ۔وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَلَا وَرْسٌ کہتے تھے کہ محرمہ نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے۔وَكَانَ يَقُوْلُ لَا تَنْتَقِبِ الْمُحْرِمَةُ وَلَا مالک نے نافع سے نقل کیا کہ حضرت ابن عمر سے تَلْبَسِ الْقُفَّازَيْنِ۔وَقَالَ مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ مروی ہے : محرمہ نقاب نہ ڈالے اور مالک کی طرح ابْنِ عُمَرَ لَا تَتَنَقَّبِ الْمُحْرِمَةُ۔لیث بن ابی سلیم نے بھی یہی نقل کیا ہے۔عن وَتَابَعَهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ۔اطرافه ١٣٤، ٣٦٦ ١٥٤٢، ١٨٤٢، ۱۷۹٤، ۵۸۰۳، ٥۸۰۵، ٥٨٠٦ ٥٨٤٧، ٥٨٥٢۔۱۸۳۹: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۱۸۳۹: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں عَنْ مَّنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بتایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے حکم سے، حکم جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس قَالَ وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمِ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ وَعَلَی اللہ عنہا سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک محرم رضی شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اُس کی گردن توڑ دی اور مار ڈالا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ اور اسے کفناؤ تُغَطَّوْا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوْهُ طِيْبًا فَإِنَّهُ اور اس کا سر نہ ڈھانپو، نہ اسے خوشبو لگاؤ؛ کیونکہ وہ فَأُتِيَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلُوْهُ وَكَفَنُوْهُ وَلَا يُبْعَثُ يُهل۔لبیک کہتے ہوئے اُٹھایا جائے گا۔اطرافه ١٢٦٥، ١٢٦٦، ۱۲٦٧، ۱۲۶۸، ۱۸٤۹، ١٨٥۰، ١٨٥١۔ریح: مَا يُنْهَى مِنَ الطَّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَة : حرم کے متعلق ممنوعہ باتوں کے ضمن میں روایت نمبر ۱۸۳۸ لائی گئی ہے۔اس روایت میں لباس وغیرہ کی ممانعت کا بھی ذکر ہے مگر عنوانِ باب کو خوشبو لگانے سے مخصوص کیا ہے۔کتاب الحج باب نمبر ۲۱ کی روایت نمبر ۱۵۴۲ میں نقاب یا دستانوں کا ذکر نہیں۔دونوں روایتیں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہیں ، مگر سندیں مختلف ہیں۔ان میں سے ایک روایت میں جو بات زیادہ مروی