صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 516 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 516

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۱۶ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ ابن حنین ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے مجھے أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر کس طرح دھوتے تھے مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى جَبکہ آپ احرام کی حالت میں ہوتے تھے؟ تو حضرت رض الثَّوْبِ فَطَأَطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ ابوایوب نے اپنا ہا تھ کپڑے پر رکھا۔ اسے بیچے جھکایا؟ یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آیا۔ پھر انہوں نے ایک قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ آدمی سے کہا: جو ان پر پانی ڈال رہا تھا؛ پانی ڈالو تو فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے اپنے بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ وَقَالَ هَكَذَا دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو ملا۔ ہاتھوں کو آگے رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ۔ لائے اور پیچھے لے گئے اور کہا: اس طرح میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا۔ تشريح : الاعْتِسَالُ لِلْمُحْرِمِ : ابن ابی شیبہ نے سن بصری اور عطاء بن ابی رباح سے روایت نقل کی ہے کہ محرم کے لئے غسل کرنا مکروہ ہے۔ (مصنف روہ ہے۔ (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الحج، باب في المحرم يدخل الحمام، روایت نمبر ۱۴۷۹۳۱۴۷۹۲، جزء ۳۰ صفحه ۳۴۶) امام مالک نے موصولاً نقل کیا ہے کہ مرجانہ نے حضرت عائشہ سے بحالت احرام کھجلی کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اگر میرے ہاتھ بندھے ؟ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں اور اور پاؤں سے کھجلی کرنا ممکن ہو، تب بھی کھجلی کر کے اپنی تکلیف کا ازالہ کروں گی ۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الحج، باب ما يجوز للمحرم أن يفعله حضرت ابن عباس کا حوالہ دار قطنی اور بیہقی نے اور حضرت ابن عمرؓ کا حوالہ بیہقی نے نے نقل کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس کے یہ الفاظ ہیں : أَمِيطُوا عَنْكُمُ الْأَذَى فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَصْنَعُ بِأَذَاكُمْ شَيْئًا (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب المحرم ينكسر ظفره، روایت نمبر ۸۹۰۷) (سنن الدار قطنی، كتاب الحج، روایت نمبر ۷۰، جز ۲ صفحه ۲۳۲) یعنی تکلیف دور کرو۔ اللہ تعالیٰ کو تمہاری تکلیف سے کوئی سروکار نہیں۔ بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس مجھے مقام میں غسل کے لئے حمام میں داخل ہوئے جبکہ وہ بحالت احرام تھے اور جب ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: اِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِأَوْ سَاخِكُمْ شَيْئًا ۔ ( سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب دخول الحمام في الإحرام و حک الرأس والجسد، روایت نمبر ۸۹۱۸، جزء ۵ صفحه ۶۳) اللہ تعالی تمہارے میل کچیل کی پرواہ نہیں کرتا۔ غرض ان روایتوں کے پیش نظر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔ (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب دخول الحمام في الإحرام وحك الرأس والجسد، روایت نمبر ۸۹۲۲) -