صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 516
صحيح البخاری جلد۳ ۵۱۶ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ ابن حسین ہوں۔حضرت عبداللہ بن عباس نے مجھے أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں کہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سرکس طرح دھوتے تھے مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى جبکہ آپ احرام کی حالت میں ہوتے تھے؟ تو حضرت ابوایوب نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا۔اسے نیچے جھکایا؟ التَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آیا۔پھر انہوں نے ایک قَالَ لِإِنْسَانِ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ آدمی سے کہا: جو اُن پر پانی ڈال رہا تھا؟ پانی ڈالو تو فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا۔پھر انہوں نے اپنے بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ وَقَالَ هَكَذَا دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو ملا۔ہاتھوں کو آگے رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ۔لائے اور پیچھے لے گئے اور کہا: اس طرح میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا۔تشریح: الْاِغْتِسَالُ لِلْمُحْرِمِ : ابن ابی شیبہ نے حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح سے روایت نقل کی ہے کہ محرم کے لئے غسل کرنا مکروہ ہے۔(مصنف ابن ابی شیبة، كتاب الحج، باب في المحرم يدخل الحمام، روایت نمبر ۱۴۷۹۲ ،۱۴۷۹۳، جز ۳۶ صفحه ۳۴۶) امام مالک نے موصول نقل کیا ہے کہ مرجانہ نے حضرت عائشہ سے بحالت احرام کھجلی کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اگر میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں اور پاؤں سے کھجلی کرنا ممکن ہو، تب بھی کھجلی کر کے اپنی تکلیف کا ازالہ کروں گی۔(مؤطا امام مالک، کتاب الحج، باب ما يجوز للمحرم أن يفعله) حضرت ابن عباس کا حوالہ دار قطنی اور بیہقی نے اور حضرت ابن عمرہ کا حوالہ بہتی لے نے نقل کیا ہے۔حضرت ابن عباس کے یہ الفاظ ہیں: اَمِیطُوا عَنْكُمُ الأذَى فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَصْنَعُ بِأَذَاكُمْ شَيْئًا - (سنن الكبرى للبيهقى، كتاب الحج، باب المحرم ينكسر ظفره، روایت نمبر ۸۹۰۷) (سنن الدار قطنی، کتاب الحج، روایت نمبر ۷۰، جز ۲ صفحه ۲۳۲) یعنی تکلیف دور کرو۔اللہ تعالی کو تمہاری تکلیف سے کوئی سروکار نہیں۔بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس" مجھے مقام میں غسل کے لئے حمام میں داخل ہوئے جبکہ وہ بحالت احرام تھے اور جب اُن پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِاَوْ سَاحِكُمْ شَيْئًا۔(سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب دخول الحمام في الإحرام وحک الرأس والجسد روایت نمبر ۸۹۱۸، جزء ۵ صفحه ۶۳) اللہ تعالیٰ تمہارے میل کچیل کی پرواہ نہیں کرتا۔غرض ان روایتوں کے پیش نظر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔(سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب دخول الحمام في الإحرام وحك الرأس والجسد، روایت نمبر ۸۹۲۲)