صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 37 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 37

صحيح البخاری جلد۳ ۳۷ ٢٤ - كتاب الزكاة السَّمَرَاتِ سے مزید وضاحت کی گئی ہے کہ صدقہ و زکوۃ کے ذریعہ سے قوم کو ہر قسم کے روحانی اور جسمانی ثمرات سے بہرہ ور کیا جائے گا۔روایت نمبر ۱۴۱۵ مقدار عمل کو اور روایت نمبر ۱۴۱۶ اس کے نتائج کو واضح کرتی ہیں۔روایت نمبر ۴۱۷ اسے ارشاد نبوی اور روایت نمبر ۱۴۱۸ سے صحابہ کرام کے اس پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور روایت نمبر ۱۴۱۵ میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، اس میں بھی یہی سبق ہے کہ جتنی بھی توفیق ہو، رضائے الہی کے لئے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔مشار الیہا آیت سے پہلے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں کہ کشائش ہونے پر وہ صدقہ دیں گے۔مگر جب ان کی حالت اچھی ہو جاتی ہے تو وہ اپنے عہد سے پھر جاتے ہیں۔ایسے لوگ منافق ہیں۔ان کے دلوں میں صدق و اخلاص نہیں ہوتا۔اس لئے مال دار ہوتے ہوئے بھی خرچ نہیں کرتے اور جن کے اندر اخلاص ہوتا ہے وہ تنگدستی میں بھی خرچ کرتے ہیں۔آلمُ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجُوهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ o الَّذِينَ يَلْمِرُونَ الْمُطَوَعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِى الصَّدَقَاتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیم O (التوبة: ۷۸-۷۹) کیا انکو معلوم نہیں کہ اللہ ان کے مخفی مشوروں کو بھی جانتا ہے اور ان کے کھلے مشوروں کو بھی۔یہ منافق ہی) ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ چڑھ کر صدقہ دینے والوں پر طنز کرتے ہیں ( کہ وہ ریا کار ہیں ) اور ان پر بھی جو سوائے اپنی محنت کی کمائی کے کوئی طاقت نہیں رکھتے۔سو ( باوجود اس قربانی کے ) یہ اُن پر ہنسی کرتے ہیں۔اللہ ان کو ہنسی کی سزادے گا اور ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ایک وہ وقت تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم محنت مزدوری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے خرچ کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے صدقات کو قبول کرتے ہوئے بہت برکت دی اور آج یہ زمانہ ہے کہ مسلمانوں میں بعض لکھ پتی ہیں اور انہیں برمحل صدقات میں حصہ لینے کی توفیق نہیں ملتی۔مواقع نمود وریاء پر کھلے ہاتھوں خرچ کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے قفس نفس سے روح اخلاص پرواز کر چکی ہے۔روایت نمبر ۱۴۱۵ میں حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت ابو عقیل کا ذکر ہے۔اوّل الذکر مالدار تاجر تھے اور انہوں نے چار یا آٹھ ہزار درہم کا صدقہ دیا تھا اور ثانی الذکر نے کنوئیں سے پانی نکالنے پر مزدوری حاصل کر کے ایک صاع ( پونے تین سیر ) کھجور حاصل کی تھی جو انہوں نے صدقہ میں دے دی۔منافقوں نے دونوں کو نشانہ طعن و تشنیع بنایا اور یہی حال اُن کا ہمیشہ ہے۔وہ نہ خود نیکی کرتے ہیں اور نہ دوسروں کی نیکی ان کو ایک آنکھ بھاتی ہے بلکہ اسے بُرا مانتے ہیں۔روایت نمبر ۱۴۱۶ کے لئے دیکھئے کتاب الاجارۃ باب ۱۲ ۱۳۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ اسلامی تربیت سے انسان کا نفس کس قسم کے روحانی تزکیہ سے بہرہ مند ہوتا ہے۔بغیر وسائل جبر و اکراہ کے وہ خوشی نفس سے نیک اعمال بجالانے میں اعلیٰ سے اعلیٰ قربانی کے لئے اپنے آپ کو مستعد پاتا ہے۔نظر یہ شیوعیت ( کیمونزم ) غافل ہے نفس بشری کے اس روشن پہلو سے اور وہ انسان کو اس کے مابہ الامتیاز سے تہی دست کر کے ایک حیوان کی سطح پر لے آتا ہے۔