صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 510
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۱۰ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد مدنظر ہے۔عربوں نے مکہ مکرمہ کی حرمت قدیم الایام سے قائم رکھی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ اس کی حرمت و عظمت قیامت تک قائم رہے گی۔جس شان میں یہ پیشگوئی اب تک پوری ہوئی۔اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد۱۰- تفسیر سورۃ الکوثر) اور دیکھئے وہ باب ، جہاں دجال سے اسے محفوظ رکھے جانے کی پیشگوئی کا ذکر ہے۔(کتاب فضائل المدينة، باب۹) وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو دار السلام قرار دے کر فرمایا کہ اب یہاں وہ دینی مظالم نہیں ہوں گے جن کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑے۔وَلَكِنْ جِهَادٌ ونِيَّة یعنی جہاد کے لئے یا کسی امر صالح کی نیست سے باہر جانا پڑے؛ اس کے لئے کوئی روک نہیں۔مثلاً طلب علم یا تجارت وغیرہ۔بَاب ۱۱ : الْحِجَامَةُ لِلْمُحْرِمِ محرم کے لئے پچھنے لگوانا وَكَوَى ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ۔اور حضرت ابن عمر نے اپنے بیٹے کو داغا جبکہ وہ بحالت احرام تھے۔وَيَتَدَاوَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيْهِ طِيْبٌ۔محرم علاج معالجہ بھی کر سکتا ہے؛ ایسی چیز سے جس میں خوشبو نہ ہو۔:١٨٣٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۱۸۳۵ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عَمْرُو أَوَّلُ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن دینار ) شَيْءٍ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ نے پہلی بار یہ ) کہا: میں نے عطاء بن ابی رباح ) سے عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ احْتَجَمَ سنا۔وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جبکہ آپ بحالت احرام تھے۔پھر مُحْرِمٌ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ میں نے ان کو کہتے سنا کہ طاؤس نے مجھے بتایا کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَعَلَّهُ سَمِعَهُ دو مِنْهُمَا۔حضرت ابن عباس سے یہ بات مروی ہے۔میں نے کہا: شاید انہوں نے ان دونوں سے سنا ہو۔اطرافه: ۱۹۳۸ ، ۱۹۳۹ ، ۲۱۰۳ ،۲۲۷۸، ۲۲۷۹، ٥٦۹۱، ٥٦٩٤، ٥٦٩٥ ٥٦٩٩، ۰۷۰۰، ۵۷۰۱ ١٨٣٦: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۱۸۳۶: خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا۔سلیمان حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بن بلال نے ہمیں بتایا۔انہوں نے علقمہ بن ابی علقمہ