صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 509
صحيح البخاری جلد ۳ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا فَإِنَّ هَذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ۵۰۹ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ مجاہد نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ہے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ افْتَتَحَ مَكَّةَ لَا نے جس دن مکہ فتح کیا، فرمایا: ( آب ) کوئی ہجرت نہیں۔هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا لیکن جہاد اور نیت قائم رہے گی اور جب تمہیں جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو۔یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت سے نوازا ہے، اس دن سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ اللہ کی اس حرمت سے وَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قامت کے دن تک حرمت والا ر ہے گا۔مجھ سے پہلے وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيْهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي کسی کے لئے اس میں لڑائی جائز نہیں ہوئی اور مجھے وَلَمْ يَحِلُّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ فَهُوَ بھی صرف ایک دن کی ایک گھڑی (لڑائی کی ) اجازت حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا دی گئی ہے۔سو وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا تک اپنی حرمت) پر قائم رہے گا۔اس کا کا نشانہ توڑا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى جائے گا۔اس کا شکار نہ چونکایا جائے گا اور اس کی گری خَلَاهَا قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِلَّا پڑی چیز نہ اٹھائی جائے؛ اس شخص کے سوا جو اس چیز کو پہچانے اور اس کی گھاس نہ کائی جائے۔حضرت عباس الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُؤْتِهِمْ قَالَ قَالَ نے کہا: یا رسول اللہ ! مگر اذخر گھاس کیونکہ وہ ان کے لوہاروں اور ان کے گھروں کے استعمال کی چیز ہے۔إِلَّا الْإِذْخِرَ۔( راوی نے ) کہا: آپ نے فرمایا: اذخر کے سوا۔اطرافه : ۱۳۴۹ ، ۱٥۸۷ ، ۱۸۳۳، ۲۰۹۰، ۲٤۳۳ ، ۲۷۸۳، ۲۸۲۵، ۳۰۷۷، ۳۱۸۹، ٤۳۱۳۔تشریح لَا يَحِلُّ الْقِتَالُ بِمَكَّةَ: حضرت ابو شریح کی محولہ بالا روایت کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۱۸۳۔امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔اس میں لفظ الْقِتَالُ کی جگہ الْقَتْلُ مروی ہے قتل کا لفظ شبہ پیدا کرتا ہے کہ انتقام قتل بھی حرم کے اندر نہیں لیا جا سکتا۔جبکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت جب بعض قاتلوں نے بیت اللہ میں پناہ لی تو آپ نے فرمایا کہ ان سے قصاص لیا جائے گا۔(روایت نمبر ۱۸۴۶) مکہ مکرمہ کی حرمت کے تعلق میں جہاں اس حرمت کے مستلزمات کا ذکر مقصود بالذات ہے۔وہاں ضمناً لفظی اصلاح بھی (مسلم، کتاب الحج، باب تحريم مكة وصيدها وخلاها وشجرها ولقتطها إلا لمنشد على الدوام)