صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 508
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۰۸ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ ہوا تھا۔ اس کا گھاس پات نہ تو ڑا جائے اور نہ اس کا صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَط لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفِ درخت کاٹا چھانٹا جائے اور نہ اس کے شکار کو بدکایا وَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ جائے ۔ نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے مگر وہ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ۔ (اٹھا سکتا ہے) ہے ) جو شناخت کروائے۔ اور حضرت عباس نے کہا: یا رسول اللہ ! سوائے اذخر گھاس کے جو ہمارے وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ هَلْ تَدْرِي سناروں اور قبروں کے لئے ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا : مَا لَا يُنَفِّرُ صَيْدُهَا هُوَ أَنْ يُنَحِيَهُ مِنَ سوائے اذخر کے۔ اور خالد سے مروی ہے۔ انہوں الظَّلِّ يَنْزِلُ مَكَانَهُ۔ نے عکرمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا شکار نہ پر کانے سے کیا مراد ہے؟ یہ کہ اسے سایہ سے ہٹا کر خود اس جگہ ڈیرہ لگائے۔ اطرافه: ١٣٤٩، ١٥٨٧، ۱۸۳٤ ، ۲۰۹۰ ، ۲۴۳۳ ، ۲۷۸۳، ۲۸۲۵، ۳۰۷۷، 3189، 4313۔ تشریح : لَا يُنفَرُ صَيْدُ الْحَرَمِ: باب ، میں تایا ا بتایا گیا ہے کہ بیت اللہ اور اس کے حرم کی عزت کا تقاضا ہے اس میں پورے طور پر امن قائم رکھا جائے۔ انسان و حیوان، پرند و چرند کو کسی قسم کی ایذا نہ دی جائے۔ کہ اس : ا یہاں تک کہ اس کا ایک کانٹا بھی نہ توڑا جائے اور گری پڑی چیز بھی نہ اٹھائی جائے، سوائے مالک کو پہچاننے کی غرض سے ۔ ان دوابواب سے سابقہ ابواب کا مضمون از خود واضح ہو جاتا ہے کہ موذی جانوروں سے اسی حد تک تعرض کرنے کی اجازت ہے جہاں ان کا وجود امن عامہ میں خلل انداز ہو۔ روایت نمبر ۱۸۳۳ کے آخر میں خالد کی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے؟ اس کے لئے دیکھئے کتاب البیوع باب ۲۸ روایت نمبر ۲۰۹۰؛ جہاں یہ روایت مفصل منقول ہے۔ بَاب ۱۰ : لَا يَحِلُّ الْقِتَالُ بِمَكَّةَ مکہ میں لڑائی جائز نہیں وَقَالَ أَبُو شُرَيْحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ اور حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْفِكُ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ وہاں کوئی خون نہ بِهَا دَمًا ۔ بہائے۔ ١٨٣٤ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي ۱۸۳۴: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے منصور نے مجاہد سے،