صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 36 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 36

صحيح البخاری جلد ۳ سم ٢٤ - كتاب الزكاة شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا تھیں: ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ اس کی دولڑکیاں فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا تھیں۔ وہ مانگ رہی تھی۔ میرے پاس اس نے سوائے ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى ایک کھجور کے اور کچھ نہ پایا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ دی اور اس نے اپنی دولڑکیوں کے درمیان اسے بانٹ مَنِ ابْتَلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُن وریا اور خود سے نہ کھایا۔ پرانی اور باہر چلی گئی اور ہی ہمارے پاس آئے اور میں نے آپ کو یہ واقعہ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔ اطرافه: ٥٩٩٥۔ بتایا۔ آپ نے فرمایا: جوان بیٹیوں کی وجہ سے کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ اس کے لئے آگ سے آڑ ہوں گی۔ تشريح : الْقَلِيلُ مِنَ الصَّدَقَةِ : اس باب کا مفہوم واضح ہے ۔ صدقہ خواہ تھوڑا ہو، انسان کے لئے موجب رحمت ہوتا ہے اور تھوڑا سمجھ کر دینے سے شرمانا نہیں چاہیے اور کسی کے طعن و تشنیع کی پرواہ نہ کی جائے۔ عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے : وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَأَتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ( البقرۃ : ۲۶۲) جو لوگ اپنے مال اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے آپ کو مضبوط بنانے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان (کے خرچ ) کی حالت اُس باغ کی حالت کے مشابہ ہے جو اونچی جگہ پر ہو ( اور ) اُس پر تیز بارش ہوئی ہو جس کی وجہ ) سے وہ اپنا پھل دو چند لایا ہو اور اُس کی یہ کیفیت ہو کہ اگر اُس پر زور کی بارش نہ پڑے تو تھوڑی سی بارش ہی ( اُس کے لئے کافی ہو جائے ) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ اس آیت میں سمجھایا گیا ہے کہ نتائج کا دار و مدار اعلیٰ اور خالص نیت پر ہے، نہ کمیت پر۔ اگر دل کی زمین محبت الہی سے گداز ہو اور انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرے تو خواہ وہ تھوڑا ہی ہو، اس کا نتیجہ با برکت ہوگا ۔ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ اللہ تعالیٰ کی نظر اعمال کی باطنی کیفیت پر ہوتی ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب الایمان تشریح باب ۴۱۔ جب انسان اپنے اعمال کی غرض وغایت بلند رکھتا ہو تو اس کی بلندی تمام چھوٹے بڑے فوائد و منافع پر حاوی ہو جاتی ہے۔ جب رضاء الہی کے لئے کوئی کام کیا جاتا ہے تو دنیاوی مفاد بھی از خود اس کے اندر شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے اعمال صالح کی مثال جس کا نصب العین اعلیٰ ہو جَنَّةٍ بِرَبُوَةٍ سے دے کر اس کے نتائج (ضِعْفَيْنِ) دوہرے بتائے ہیں ۔ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ ( حصول رضاء الہی) اور تَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ (اپنی مضبوطی ) یہ وہ دوہرے اجر ہیں جن کی طرف ضِعُفَيْنِ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ رضائے الہی کا حصول روحانی فائدہ ہے اور اپنی مضبوطی سے مراد قومی تقویت ہے کہ صدقات کے ذریعہ سے غریب طبقہ کو اُٹھنے اور ترقی کرنے کا موقع ملتا ہے اور فقرہ مِنْ كُلّ