صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 495 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 495

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۹۵ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد عنوان باب میں قرآن کریم کی آیتوں کی طرف اشارہ کر کے لفظ قِيَامًا اور يَعْدِلُونَ سے جو معنی بتائے گئے ہیں؛ بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ تشریح یو نہی ضمنا کی گئی ہے۔مگر یہ درست نہیں۔پہلی آیت سورہ مائدہ کی ہے جو اس مضمون سے تعلق رکھتی ہے جس کا حوالہ باب نمبر ۲ میں دیا گیا ہے۔فرماتا ہے: جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدَى وَالْقَلَائِدَ ذَلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيم (المائدة: (۹۸) [ ترجمہ: اللہ نے بیت حرام کعبہ کولوگوں کے ( دینی اور اقتصادی) قیام کا ذریعہ بنایا ہے اور حرمت والے مہینہ کو اور قربانی کے جانوروں کو اور قربانی کی علامت کے طور پر پٹے پہنائے ہوئے جانوروں کو۔یہ ( تنبیہ ) اس لیے ہے تا کہ تم جان لو کہ اللہ سے خوب جانتا ہے جو بھی آسمانوں میں ہے اور جوز مین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیت کے سیاق میں قیاما کے ایک معنی سہارا ئے زندگی بھی ہے۔اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کعبہ کو البيتَ الْحَرَام یعنی محفوظ گھر قرار دیا گیا ہے۔اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اس کا امن قائم رکھنا اس لئے ہے تا اسباب معیشت میں رخنہ نہ پیدا کیا جائے۔دوسری مشار الیہ آیت سورۃ الانعام کی ہے اور لفظ يَعْدِلُونَ اس سورۃ میں دو جگہ وارد ہوا ہے۔شروع میں جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الأنعام: ۲) [ ترجمہ: پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا؛ اپنے رب کا شریک ٹھہراتے ہیں۔] اور دوسری جگہ فرماتا ہے: وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ۔(الأنعام : ۱۵۱) [ ترجمہ: اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر جنہوں نے ہمارے نشانات کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور وہ اپنے رب کا شریک ٹھہراتے ہیں۔دونوں جگہ شرک باری تعالیٰ کا لطیف مضمون ہے۔مشار الیہ پہلی آیت میں نور اور ظلمات کا وجود اور ان میں مابہ الامتیاز اور دوسری آیت میں اتباع خواہشات نفس کا ذکر ہے جو احکام الہی کے بالمقابل ایسا شرک ہے جس کا قلع قمع کرنے کے لئے بہت بڑے جہاد کی ضرورت ہے۔امام بخاری در حقیقت مذکورہ بالا ابواب اور روایات سے اسی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔باب ۳ إِذَا رَأَى الْمُحْرِمُونَ صَيْدًا فَضَحِكُوا فَقَطِنَ الْحَلَالُ جب احرام باندھنے والے شکار دیکھیں اور وہ ہنس دیں اور بے احرام شخص سمجھ جائے ۱۸۲۲: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبيع :۱۸۲۲: سعيد بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى عَنْ مبارک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سجی سے بچی نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عبد الله بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ ان کے باپ