صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 494 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 494

صحيح البخاري - جلد۳ ۴۹۴ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُهُ وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ فَأَبَوْا أَنْ کر رہے تھے۔میں نے دیکھا کہ ایک گورخر ہے تو میں يُعِيْنُونِي فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِيْنَا أَنْ نے اس پر حملہ کیا اور اسے برچھی سے زخمی کر دیا اور اپنی نُقْتَطَعَ فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جگہ پر ٹھہرادیا اور میں نے ان سے مدد چاہی ؛ مگر انہوں وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوَا وَأَسِيْرُ شَأْوَا نے مجھے مدد دینے سے انکار کر دیا۔سو ہم نے اس کے گوشت سے کھایا اور ہم ڈرے کہ کہیں ( رسول اللہ ملے صلى الله فَلَقِيْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ سے الگ نہ ہو جائیں تو میں نے نبی عملے کی تلاش اللَّيْلِ قُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ کی۔اپنا گھوڑا کچھ فاصلہ تک تیز چلایا اور کچھ فاصلہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَ هُوَ قَائِلٌ تک معمولی رفتار سے۔میں آدھی رات کو ایک غفاری السُّقْيَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَكَ شخص سے ملا اور پوچھا کہ نبی ﷺ کو کہاں چھوڑا ہے؟ يَقْرَءُوْنَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ اس نے کہا: میں نے آپ کو تعین میں چھوڑا ہے اور وہ إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ قیا میں قیلولہ کریں گے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَصَبْتُ آپ کے ساتھی آپ کو سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت حِمَارَ وَحْشِ وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ فَقَالَ کی دعا دیتے ہیں۔وہ ڈر گئے تھے کہ کہیں آپ سے الگ نہ ہو جا ئیں اور آپ ان کا انتظار فرمائیں۔میں لِلْقَوْمِ كُلُوْا وَهُمْ مُّحْرِمُوْنَ۔نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے گورخر شکار کیا اور میرے پاس بچا ہوا گوشت ہے۔آپ نے لوگوں سے کہا: کھاؤ۔بحالیکہ وہ بحالت احرام تھے۔اطرافه ۱۸۲۲، ۱۸۲۳، ١٨٢٤، ٢٥٧٠، ۲۸٥٤، ۲۹۱۴، ٤١٤۹، ٥٤٠٦، ٥٤٠٧، ٥٤۹۲ ،٥٤۹۱ ،٥٤٩٠ تشریح: إِذَا صَادَ الْحَلَالُ فَأَهْدَى لِلْمُحْرِم: اوامر الہی کے متعلق جو صحابہ کا اعلیٰ نمونہ تھا۔اس کی مزید وضاحت اس باب میں کی گئی ہے۔اول حضرت ابو قتادہ جو غیر محرم تھے انہوں نے گورخر کا شکار کیا۔بعض نے گوشت کھایا۔بعض نے انکار کیا کہ بحالت احرام شکار کرنا منع تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس خلش کو دور فرمایا۔دوم قربانی کے جانور شکار نہیں؛ اس لئے ان کا بحالت احرام ذبح کرنا جائز ہے۔اس تعلق میں حضرت ابن عباس اور حضرت انس کے فتوے دیئے گئے ہیں۔ایک کا فتویٰ مسند عبد الرزاق میں اور دوسرے کا فتویٰ ابن ابی شیبہ میں منقول ہے۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب المناسک، باب فضل الضحايا والهدي وهل يذبح المحرم، روایت نمبر ا ۸۱۷، جز ۴۶ صفحه ۳۸۹) (مصنف ابن ابی شيبة، كتاب الحج، باب في المحرم يذبح، روايت نمبر ۲۱ ۱۴۵، جزء ۳۰ صفحه ۳۱۳) (فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۳۰ ) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۱۶۵)