صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 496
صحيح البخاري - جلد ٣ ۴۹۶ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد قَالَ انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَّةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ حدیبیہ کے سال ہم چل پڑے تو آپ کے ساتھیوں وَلَمْ أُحْرِمْ فَأَنْبِتُنَا بِعَدُةٍ بِغَيْقَةَ فَتَوَجَّهْنَا نے احرام باندھے اور میں نے احرام نہیں باندھا۔پھر ہمیں خبر دی گئی کہ تخلیق میں ایک دشمن ہے تو ہم ان نَحْوَهُمْ فَبَصُرَ أَصْحَابِي بِحِمَارِ کی طرف گئے۔میرے ساتھیوں نے ایک گورخر وَحْشِ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى دیکھا۔وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر بہنے لگے۔میں نے بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَرَأَيْتُهُ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ جو نظر کی تو میں نے اسے دیکھ لیا۔میں نے گھوڑے پر الْفَرَسَ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتْهُ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا سوار ہو کر اس پر حملہ کر دیا۔میں نے اس کو برچھا مارا أَنْ يُعِيْنُوْنِي فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثُمَّ لَحِقْتُ اور اسے وہیں ٹھہرا دیا۔پھر میں نے ان سے مدد مانگی بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو انہوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کر دیا۔پھر ہم وَخَشِيْنَا أَنْ تُقْتَطَعَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْرًا نے اسے کھایا اور اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ وَأَسِيْرُ عَلَيْهِ شَأْوًا فَلَقِيْتُ رَجُلًا مِنْ علیہ وسلم سے جاملا اور ہم ڈرے کہ کہیں (آپ سے ) الگ نہ ہو جائیں۔کچھ فاصلہ میں اپنا گھوڑا تیز چلاتا اور بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ لَهُ کچھ فاصلہ معمولی چال چلتا کہ آدھی رات کو بنی غفار أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے ایک شخص سے ملا اور اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ عليه وسلم کو کہاں تم نے چھوڑا ہے تو اس نے کہا تعین السُّقْيَا فَلَحِقْتُ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللہ میں میں نے آپ کو چھوڑا ہے اور آپ سقیا میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ قیلولہ کریں گے۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ أَرْسَلُوْا يَقْرَءُونَ جا ملا۔یہاں تک کہ آپ کے پاس آیا۔میں نے کہا: عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ وَبَرَكَاتِهِ يا رسول اللہ ! آپ کے ساتھیوں نے کہلا بھیجا ہے۔وہ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يَقْتَطِعَهُمُ الْعَدُوُّ آپ کو سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتوں کی دعا دیتے ہیں اور وہ ڈر گئے کہ کہیں دشمن دُونَكَ فَانْظُرْهُمْ فَفَعَلَ فَقُلْتُ آپ سے ان کو الگ نہ کر دے۔آپ ان کا انتظار رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا اصَّدْنَا حِمَارَ وَحْشِ فرمائیں۔تو آپ نے ایسا ہی کیا اور میں نے کہا: