صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 485 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 485

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۸۵ ۲۷ - كتاب المحصر بَابه : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكِ (البقرة : ۱۹۷) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی جو تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو وہ فدیہ دے روزوں کا یا صدقے کا یا قربانی کرے وَهُوَ مُخَيَّرٌ فَأَمَّا الصَّوْمُ فَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ۔ اور اسے اختیار ہے۔ جو روزے ہیں تو وہ تین دن ۔ ١٨١٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۸۱۴: عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے حمید بن قَيْسٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قیس سے حمید نے مجاہد سے، مجاہد نے عبدالرحمن بن ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ دینے رضي عنه رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى سے، حضرت کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وس صلی اللہ علیہ وسلم سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَعَلَّكَ آذَاكَ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: شاید تیری جوؤوں نے هَوَامُّكَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ تجھے تکلیف دی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر منڈ والو اخْلِقْ رَأْسَكَ وَهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ اور تین دن روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ۔ ایک بکری قربانی دو۔ إطرافه ۱۸۱۵، ۱۸۱۶، ۱۸۱۷، ۱۸۱۸، 4159 ، 4190 ، 4191، 4517، 5665، ٥٧٠٣، ٦٧٠٨ تشريح : فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُ : آیت تحولہ بالا میںحرف عطف او اختلاف پر دلالت کرتا ہے۔ بعض ائمہ اس طرف گئے ہیں کہ روزے بطور فدیہ مقدم ہیں اور اگر نہ رکھ ۔ اور اگر نہ رکھ سکے تو پھر کھانا کھلائے ۔ ( فتح الباری جز ۴ صفحہ ۲۰) حدیث مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ یہ اختیاری امر ہے۔ بیماری کی وجہ سے احرام کھولا ہو تو حسب استطاعت جونسی صورت اختیار کی جائے ؟ جائز ہے۔ فدیہ سے متعلق آیت مندرجہ باب کے ایک حصہ کی الگ الگ تشریح باب ۶، ۷ میں کی گئی ہے اور اس ضمن میں بعض فقہی اختلافات کا حل بھی مد نظر ہے۔