صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 486 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 486

صحيح البخاری جلد ۳ MAY ٢٧- كتاب المحصر باب ٦ قَوْلُ اللهِ تَعَالى أَوْصَدَقَةِ (البقرة : ۱۹۷) وَهِيَ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِيْنَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ١٨١٥: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۸۱۵: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سیف (بن سَيْفَ قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ قَالَ سلیمان یکی ) نے ہمیں بتایا، کہا: مجاہد نے مجھ سے بیان سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَنَّ کیا، کہا: میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلی سے سنا کہ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ وَقَفَ حضرت کعب بن عجرہ نے انہیں بتایا ، کہا: رسول اللہ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں میرے پاس ٹھہرے اور بِالْحُدَيْيَةِ وَرَأْسِي يَتَهَافَتُ قَمْلًا فَقَالَ حالت یہ تھی کہ میرا سر جوڑوں سے ٹپک رہا تھا تو آپ يُؤْذِيْكَ هَوَامُّكَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقُ نے فرمایا: تیری جوئیں تجھے تکلیف دے رہی ہیں؟ رَأْسَكَ أَوْ قَالَ احْلِقُ قَالَ فِي نَزَلَتْ میں نے کہا: ہاں۔فرمایا: اپنا سر منڈوا لو۔یا فرمایا: هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ منڈوا لو۔حضرت کعب نے کہا: میرے متعلق ہی یہ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ إِلَى آخِرِهَا۔آیت نازل ہوئی۔یعنی جو تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو۔۔۔۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (البقرة: ۱۹۷) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ فرمایا: تین روزے رکھو۔یا ایک فرق ( تین صاع) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ چھ (محتاجوں ) میں بطور صدقہ تقسیم کر دو۔یا قربانی دو بِفَرَةٍ بَيْنَ سِتَّةٍ أَوِ انْسُكْ بِمَا تَيَسَّرَ۔جو میسر ہو۔اطرافه ۱۸۱٤ ، ۱۸۱۶، ۱۸۱۷، ۱۸۱۸، ٤١٥۹، ٤۱۹۰، 4۱۹۱، 4517، 5665، ٥٧٠٣، ٦٧٠٨ تشریح : - اَوْ صَدَقَةٍ - وَهِيَ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِيْنَ : اس باب میں صدقہ کی مقدار بتائی گئی ہے کہ کتنے مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔فرق تین صاع یا سولہ رطل ہیں۔جس کا اندازہ ساڑھے آٹھ سیر ہوتا ہے۔اس مقدار میں جتنے مسکینوں کو اچھی طرح کھلایا جا سکتا ہے، کھلایا جائے۔