صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 484
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۸۴ ۲۷ - كتاب المحصر إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ ایک ہی بات ہے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا نے عمرہ کے ساتھ حج واجب کر لیا ہے۔ پھر ان دونوں وَاحِدًا وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِى عَنْهُ کے لئے ایک ہی طواف کیا اور سمجھے کہ یہ ان کے لئے وَأَهْدَى۔ کافی ہے اور وہ قربانی لے گئے تھے۔ اطرافه : 163٩ ، 1640 ، 1693، 1708 ، ۱806، ۱۸۰۷، ۱۸۰۸، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ تشريح : لَيْسَ عَلَى الْمُحْصَرِ بَدَلَّ : اس باب کا عنوان ائمہ فقہاء کے اختلاف پرہتی ہے۔ پہلا فولی جمہور کا ہے کہ محضر پر قضا نہیں۔ دوسرا فتویٰ حضرت ابن عباس کا ہے؛ مگر اس کی نوعیت الگ ہے۔ جو شخص خواہشات نفس کی خاطر حج عمدا فسخ کر دے؟ اس پر قضا واجب ہوگی ؛ ورنہ نہیں۔ یہ فتوئی اسحاق بن راہویہ سے مروی ہے جو امام بخاری کے شیخ ہیں اور پہلے فتوی کے خلاف نہیں بلکہ اس میں تفصیل ہے۔ تیسر ا فتوی امام مالک کا ہے کہ ایسے شخص پر قضا نہیں۔ کیونکہ اس نے گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۱۵) امام ابو حنیفہ نے حل و حرم میں فرق کیا ہے۔ یعنی اگر اس وقت حرم کے اندر ہو تو اس وقت تک احرام نہ کھولے؛ جب تک کہ قربانی منی میں ذبح نہ ہو جائے اور اگر حرم سے باہر ہو تو جہاں روک ہو، وہیں حجامت بنوائے اور احرام کھول دے۔ امام شافعی کا فتوی تقریب وہی ہے جو امام مالک گا۔ (فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۱۵) (عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۱۴۸، ۱۴۹) مذکورہ بالا اختلافات کا حوالہ دے کر امام موصوف نے حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت پر اکتفا کیا ہے؟ جس میں حدیبیہ کے دوسرے سال عمرہ کرنے کا ذکر ہے۔ فقہاء کے نزدیک یہ عمرہ قضاء نہ تھا بلکہ نیا عمرہ تھا جو حسب معاہدہ صلح حدیبیہ کیا گیا تھا اور بعض صحابہ اس عمرہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اگر یہ عمرہ عمرہ قضا ہوتا تو ان صحابہ کو بھی شریک ہونا پڑتا۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۱۶) روایت نمبر ۱۸۱۳ میں جس فتنے کا ذکر ہے؟ وہ یزید کا فتنہ ہے۔ اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ قرآن کی صورت میں ایک ہی طواف کافی ہے۔