صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 479 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 479

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٧- كتاب المحصر سکتا ہے۔(فتح الباری جز یہ صفحہ ۷ ) جن فقہاء کا یہ خیال ہے کہ عمرہ کرنے والے کو انتظار کرنا چاہیے؛ ان کا رڈ روایت نمبر ۱۸۰۶، ۱۸۰۹،۱۸۰۷ سے ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔روک پیدا ہو جانے پر آپ نے احرام کھول کر دوسرے وقت میں عمرہ کیا۔روایت نمبر ۱۸۰۷ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کو مکہ مکرمہ نہ جانے کا مشورہ دیا گیا تھا کہ وہاں بدامنی ہے۔یہ واقعہ سے ھ کا ہے؛ جب حضرت عبداللہ بن زبیر کے خلاف عبدالملک بن مروان اموی کی طرف سے حجاج بن یوسف کی قیادت میں فوج بھیجی گئی۔(دیکھئے فتح الباری شرح کتاب الحج باب ۱۱۴۔جزء ۳۰ صفحه ۶۹۵) اس لشکر کشی اور مشورہ کا ذکر روایت نمبر ۱۶۳۹، ۱۶۴۰ میں بھی گذر چکا ہے۔اس باب کی تیسری روایت بسند موسیٰ بن اسماعیل مروی ہے۔یہ روایت یہاں مختصر ہے۔کتاب المغازی روایت نمبر ۴۱۸۵ میں مفصل مذکور ہے۔چوتھی روایت ایک اور اختلاف حل کرنے کی غرض سے لائی گئی ہے کہ آیا عمرہ کرنے والا فدیہ دینے کے بعد جب روک دور ہو جائے ؛ عمرہ کرے یا نہ کرے؟ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے بموجب ارشادِ باری تعالى وَاتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ (البقرة : ۱۹۷) فتوی دیا ہے کہ حج وغیرہ کرنا چاہیے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت ( نمبر ۱۸۰۹) سے اس فتوی کی تائید ہوتی ہے۔کیونکہ احرام کھولنے کی اجازت بطور رخصت ہے۔فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : شارحین میں سے علامہ ابن حجر کو لفظ فَقَالَ کے حرف فاء سے جو تعقیب کے لئے آتا ہے، خیال پیدا ہوا ہے کہ ایسی عبارت سے متعلق ہے جو نظر انداز ہوگئی ہے اور تحقیق کرنے پر ابن السکن کی تصنیف کتاب الصحابہ میں محمد بن اسحاق صفغانی کی جو امام مسلم کے شیخ تھے مفصل روایت کا پتہ چلا ہے کہ عبداللہ بن رافع نے کہا جو حضرت ام سلمہ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ حضرت ام سلمہ نے حضرت حجاج بن عمر و انصاری سے ایسے شخص کے بارہ میں دریافت کیا تھا جو بحالت احرام روک دیا جائے تو حجاج نے یہ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ عُرِجَ اَوْ كُسر حضرت ابن عباس کی روایت کا حوالہ علامہ ابن حجر کی رائے میں اس غرض سے بھی دیا گیا ہے کہ حضرت حجاج بن عمرو کی یہ روایت جو سیمی بن ابی کثیر نے عکرمہ سے روایت کرتے ہوئے نقل کی ؛ اس میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس نے کہا: قَدْ أَحْصِرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَحَلَقَ وَنَحَرَ هَدْيَهُ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا۔اس روایت کے الفاظ تقریب وہی ہیں جو روایت نمبر ۱۸۰۹ کے ہیں۔مگر اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مَنْ عُرِجَ اَوْ كُسِرَ اَوْ حُبِسَ فَلْيُجْزِئُ مِثْلَهَا وَهُوَ فِى حِلَّ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ اَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ صَدَقَ فَحَدَّثْتُهُ ابْنَ عَبَّاسِ فَقَالَ قَدْ أَحْصِرَ رَسُوْلُ اللہ لا یعنی جولنگڑا ہو جائے یا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا قید کر لیا جائے تو حج بدل یا عمرہ کرے گا اور وہ احرام کھول دے گا۔میں نے اس کا ذکر حضرت ابو ہریرہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ درست کہا۔پھر میں نے حضرت ابن عباس سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو کے گئے۔امام بخاری کے نزدیک صلى الله زائد حصہ ان کی شراک صحت کے مطابق نہیں۔اس لئے انہوں نے حذف کر دیا ہے۔(فتح الباری جز ۴ صفحہ۱۱)