صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 480
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۸۰ بَاب ٢ : الْإِحْصَارُ فِي الْحَجّ حج میں روکے جانا ٢٧- كتاب المحصر ۱۸۱۰ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۸۱۰ احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ( بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔(کہا: ) یونس نے الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ قَالَ كَانَ ہمیں خبر دی کہ زہری سے مروی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ أَلَيْسَ سالم نے مجھے خبر دی ، کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله کہا کرتے تھے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ تمہارے لیے کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا روکا جائے تو بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کر لے۔وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى پھر وہ ہر شئے سے آزاد ہوجائے۔یہاں تک کہ يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيُهْدِي أَوْ يَصُوْمُ إِنَّ آکنده سال حج کرلے اور قربانی دے یا روزہ رکھے لَّمْ يَجِدْ هَدْيًا۔وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا اگر قربانی کی طاقت نہ ہو۔اور عبد اللہ بن مبارک) مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ سے مروی ہے کہ ہمیں معمر نے خبر دی کہ زہری سے عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔۔۔نَحْوَهُ۔روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ سالم نے حضرت ابن عمر سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔اطرافه: ١٦٣٩، ١٦٤٠، ۱٦٩٣، ۱۷۰۸، ۱۸۰۶، ۱۸۰۷، ۱۸۰۸، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، تشریح الْإِحْصَارُ فِی الْحَجَّ : آنحضرت ﷺ کوعمرہ ادا کرنے میں روک پیدا ہوئی اور احصار حج (حج کی : بندش کا قیاس اس عمرہ پر کیا گیا اور ارشاد باری تعالی واتموا الحَجَّ وَالْعُمْرَةَ۔۔۔۔(البقرة : ١٩٧) کا تعلق بھی آیت فَإِن أُحْصِرتُمُ (البقرة : ۱۹۷) سے ہے۔یعنی حج وعمرہ سے اگر تم رو کے جاؤ تو وہ موقع ملنے پر پورے کئے جائیں گے اور یہ ارشاد نص صریح ہے۔مگر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو یہ جو کہنا پڑا کہ کیا اس بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں اور یہ کہ کر انہوں نے بجائے نص صریح کا حوالہ دینے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا۔اس کی کیا وجہ ہے؟ در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روکا جانا جنگی حالات کی وجہ سے تھا اور ہمقام حرم پہنچ کر کسی عذر کی وجہ سے مناسک حج یا عمرہ نہ کر سکنے کی اور صورت ہے۔مسئلہ دریافت کرنے والوں کے نزدیک اس دوسری