صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 478 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 478

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۷۸ ۲۷ - كتاب المحصر يَوْمُ النَّحْرِ وَأَهْدَى وَكَانَ يَقُوْلُ لَا کہتے تھے کہ اس وقت تک (محرم) احرام سے آزاد يَحِلُّ حَتَّى يَطُوْفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ نہیں ہوتا ؟ جب تک کہ ایک طواف ( طواف زیارت ) يَدْخُلُ مَكَّةَ ۔ نہ کرلے؛ جس دن کہ مکہ میں داخل ہو۔ اطرافه : 16٣٩ ، 1640 ، 1693، 1708 ، ۱806، ۱۸۰۸، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳ ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ :۱۸۰۸: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ ۱۸۰۸ موسیٰ بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللهِ قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ عبد اللہ کے بیٹوں میں سے بعض نے ان سے کہا: اگر بِهَذَا۔ آپ اس سال ٹھہرے رہیں ( تو بہتر ہے۔) اطرافه : ١٦٣٩، ١٦٤٠ ، ۱۹۹۳، ۱۷۰۸ ، ۱۸۰، ۱۸۰۷، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ ۱۸۰۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۸۰۹ : محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: يحي بن صالح يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن سلام نے ہم سے بیان سَلَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ کیا۔ یحی بن ابی کثير بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا کہ مکہ بتایا کہ مکرمہ سے مروی عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا قَدْ أُحْصِرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روک دیئے گئے تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ وَجَامَعَ آپ نے اپنا سر منڈوایا اور ازواج سے ازدواجی تعلق نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قائم کیا اور قربانی ذبح کی۔ یہاں تک کہ آئندہ سال قَابِلًا۔ ☆ آپ نے عمرہ کیا۔ وہ نظر قائم تشريح : إِذَا أُحْصِرَ الْمُعْتَمِرُ: یہ بھی ایک اختلاف کے پیش ہر کام کیا گیاہے اور یہ کہ مرد چنکہ سارا سال کسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے؟ اس لئے معتمر کو اگر کوئی عارضہ عارضی روک ہو تو آیا وہ بحالت احرام رہ کر روک دور ہونے کا انتظار کرے یا نہ کرے۔ حج کا وقت چونکہ معین ہوتا ہے؛ اس لئے حاجی معذوری کی وجہ سے احرام کھول ہ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ”فَقَالَ“ ہے۔ ابن حجر کے نزدیک بخاری کے تمام نسخوں میں اسی طرح ہے۔ فتح الباری جزء ۴۰ حاشیہ صفحہ کے نیز صفحه ۱۱)