صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 474 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 474

صحيح البخاري - جلد ٣ ۴۷۴ ٢٦- كتاب العمرة بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى پھر کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَرَ آپ کو سفر کی جلدی ہوتی تو مغرب میں دیر کرتے اور الْمَغْرِبَ وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا۔ان دونوں کو جمع کرتے۔اطرافه ۱۰۹۱، ۱۰۹۲، ۱۱۰۶، ۱۱۰۹، ١٦٦۸، ١٦٧٣، ٣٠٠٠۔تشریح: بیت میں جلدی پہنچنا چاہیے۔ان کی خبر گیری اور نگہداشت میں سہل انگاری مناسب نہیں۔اسی تعلق میں روایت نمبر ۱۸۰۴ و ۱۸۰۵ لائی گئی ہیں۔مناسک حج کا مقصود یہ نہیں ہے کہ انسان تارک الدنیا ہو جائے۔اسلام ہر بات میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔اس کے نزدیک اعمال میں صحیح تناسب اور اعتدال مد نظر رکھنا ہی بہت بڑا مجاہدہ ہے۔دنیاوی تعلقات قائم رکھتے ہوئے اپنے نفس میں تبتل الی اللہ کی کیفیت پیدا کرنا معمولی نہیں ، مشکل کام ہے، جس کے لئے بیدار مغزی اور بہت بڑی کوشش کی ضرورت ہے۔۔۔۔اَلسَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ : حج سے واپسی کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے اہل