صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 473
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۷۳ ٢٦ - كتاب العمرة باب ۱۹ : السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِّنَ الْعَذَابِ سفر ایک قسم کا عذاب ہے الله ١٨٠٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۸۰۴: عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيّ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سمی سے ہمی نے أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی عنہ سے، عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ قَالَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِّنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ نے فرمایا : سفر ایک قسم کا عذاب ہے تم میں سے کسی أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ فَإِذَا شخص کو اس کے کھانے پینے اور سونے سے روکتا ہے۔ قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ۔ پس جب وہ شخص اپنا کام پورا کر چکے تو چاہیے کہ وہ جلدی سے اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ آئے۔ اطرافه: ٣٠٠١، ٥٤٢٩ بَاب ۲۰ : الْمُسَافِرُ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ يُعَجِّلُ إِلَى أَهْلِهِ مسافر جب اس کو سفر کی جلدی ہو اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس جلدی سے پہنچنا چاہے ۱805 : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي ۱۸۰۵: ۱۸ سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ زید بن اسلم أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ نے مجھے خبر دی کہ ان کے باپ سے روایت ہے۔ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا تو ان کو صفیہ بنت بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ شِدَّةُ وَجَعٍ فَأَسْرَعَ ابی عبید کی سخت بیماری کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنی السَّيْرَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ رفتار تیز کی۔ یہاں تک کہ شفق دور ہوئی تو وہ اُترے نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ جَمَعَ اور مغرب و عشاء کی نماز پڑھی۔ وہ دونوں جمع کیں۔