صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 475
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۷۵ ۲۷ - كتاب المحصر ٢٧ - كِتَابُ الْمُحْصَر 0000000000 بَابُ الْمُحْصَرِ وَجَزَاءِ الصَّيْدِ} محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں کم وَقَوْلُهُ تَعَالَى: فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ اور اللہ تعالی کا یہ فرمانا: یعنی اگر تم رو کے جاؤ تو جو مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُ وَسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ قربانی میسر ہو، وہ کی جائے اور اپنے سر نہ منڈواؤ؟ الْهَدْيُ مَحِلَهُ۔ (البقرة: ۱۹۷) وَقَالَ تا وقتیکہ قربانی اپنی جگہ پر پہنچ جائے اور عطاء ( بن ابی عَطَاءِ الْإِحْصَارُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ رباح) نے کہا: احصار کا اطلاق ایسی شے پر ہوگا۔ جو يَحْبِسُهُ۔ { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ حَصُوْرًا اسے روکے۔ { ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: لَا يَأْتِي النِّسَاءَ ۔ } ☆ حصوراً کا معنی ہے کہ وہ عورتوں کے پاس نہ جائے } جو رہ 2 تشریح : المُحضر احضار مصدرت مشتق ہے یعنی روکے جانا بحصر و یا عمر سے روکا گیاہو۔ دشمن کی وجہ سے یا بدامنی یا بیماری کے سبب ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ حَصُورًا لَّا يَأْتِي النِّسَاءَ - اس سے سورہ آل عمران کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے : يُبَشِّرُكَ بِيَحْي مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا نَبِيًّا مِّنَ الصَّلِحِينَ (آل عمران : ۴۰) [ ترجمہ: اللہ تجھے بچی کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے ایک عظیم کلمہ کی تصدیق کرنے والا ہوگا اور وہ سردار اور اپنے نفس کی پوری حفاظت کرنے والا اور صالحین میں سے ایک نبی ہوگا ۔] حَصُورًا یعنی بکلی مجتنب ، عفیف نیکیوں میں ترقی کرنے والا اور نبی اور صالحین میں سے ہوگا۔ محصر کے تعلق میں لفظ احصار کی لغوی تشریح کر کے فقہاء کے اس اختلاف کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو محصر کی تعریف میں ہوا ہے کہ دشمن یا جنگی حالات کی وجہ سے رکنے والے کو محصر کہتے ہیں نہ کہ بیماری وغیرہ حوادث کی وجہ سے۔ امام بخاری محصر کی تعریف میں امام ابوحنیفہ کی رائے کے مزید معلوم ہوتے ہیں ۔ امام ما ہوتے ہیں۔ امام مالک، امام احمد بن حنبل اور امام شافعی کے نزدیک یہ لفظ احصار صرف دوشم ر صرف دشمن کی طرف سے روک پر دلالت کرتا ہے۔ بیماری وغیرہ میں شفا پانے تک بحالت احرام رہے گا۔ اگر حج کا وقت گزر جائے تو عمرہ ہے یہ عنوان باب اور الفاظ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَصُورًا لَّا يَأْتِي النِّسَاءَ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء حاشیه صفحه ۵ )