صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 468
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۶۸ ٢٦ - كتاب العمرة اس باب کی پہلی روایت نمبر ۱۷۹ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کی سند سے مروی ہے جو مشہور فقیہ اور امام بخاریؒ کے استاد ہیں اور تیسری روایت (نمبر ۱۷۹۳) سفیان سے مروی ہے۔وہ بھی مشہور فقیہ ہیں۔چھٹی روایت ( نمبر ۱۷۹۶) میں حضرت اسماء کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے کہ حجون پہاڑ سے جب وہ گذریں تو انہوں نے کہا کہ عمرہ میں جب ہم بیت اللہ کے ارکان (ستون) کا مسح کر لیتے تو ہم احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتے۔مسیح ارکان سے مراد دراصل طواف بیت اللہ ہے جس میں حجر اسود اور ستون چھوئے جاتے ہیں۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الحج باب ۷۸ روایت نمبر ۱۶۴۱ ۱۶۴۲۔جہاں تفصیل سے حضرت عائشہ اپنے اور مذکورہ بالا صحابہ کے طواف ارکان کا ذکر کرتی ہیں اور اس کے آخر میں ( یعنی روایت نمبر ۱۹۴۲ میں) فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُوا ہے۔یعنی جب انہوں نے رکن کا مسح کر لیا تو انہوں نے احرام کھول دیا۔اس روایت کا اس جگہ حوالہ دیا گیا ہے۔بَاب ١٢ : مَا يَقُوْلُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَوِ الْغَزْوِ کیا کہے جب حج یا عمرہ یا جنگ سے لوٹے ۱۷۹۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۷۹۷: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعِ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے نافع سے، نافع عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے لوٹتے تو زمین کی ہر بلندی پر چڑھتے وقت إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْرٍ أَوْ حَجَ أَوْ عُمْرَةٍ اللہ اکبر تین بار کہتے۔پھر فرماتے: ایک اللہ کے سوا اور يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ کوئی معبود نہیں۔کوئی اس کا شریک نہیں۔اسی کی ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بادشاہت ہے اور اس کی ستائش ہے اور وہ ہر شئے پر وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ قدرت رکھنے والا ہے۔لوٹ رہے ہیں۔اپنے ربّ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کی طرف متوجہ ہیں۔اسی کے عبادت گزار، اسی کو آيبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ سجدہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کے شکر گزار لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ ہیں۔اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دیا اور اپنے بندے وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ۔کی نصرت فرمائی۔اس نے جتھوں کو تنہا شکست اطرافه ،۲۹۹۵ ، ۳۰۸۴، ٤١١٦، ٦٣٨٥ دے دی۔