صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 467
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۶۷ ٢٦- كتاب العمرة وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزَّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ اور میری بہن عائشہ اور زبیر اور فلاں فلاں نے فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا ثُمَّ عمرہ کیا۔جب ہم نے بیت اللہ کو چھولیا { تو ہم احرام کھول کر آزاد ہو گئے۔پھر ہی کم عشاء کے وقت ہم أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَقِّ۔اطرافه: ١٦١٥، ١٦٤٢۔نے حج کا لبیک پکار کر احرام باندھا۔تشريح : مَتَى يَحِلُّ الْمُعْتَمِرُ: ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ر این ایس کا ایک قوی مد نظر رکھ کر قائم کیا گیا ہے کہ بیت اللہ کا طواف کر کے احرام کھولا جاسکتا ہے اور بعض نے یہاں تک فتویٰ دیا ہے کہ حرم میں داخل ہونے کے بعد حاجی احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جائے گا۔مگر یہ مذہب بطور شاذ ہے۔ائمہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ طواف وسعی دونوں ضروری ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۷ ۷۷ ) ( عمدۃ القاری جزء ۰ اصفحہ ۱۲۷، ۱۲۸) اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کے لئے عنوانِ باب میں حضرت جابر کی ایک روایت کا حوالہ دیا گیا ہے جو زیر باب ۶ روایت نمبر ۱۷۸۵ میں گذر چکی ہے اور جو عطاء جیسے مشہور فقیہ کی سند سے مروی ہے۔اس میں طواف کے بعد حجامت کر کے احرام کھولنے کا ذکر ہے۔اس طواف میں طواف بیت اللہ اور سعی بین الصفا والمروہ دونوں ہیں۔جس کی صراحت حضرت جابڑ ہی کی روایت سے کی گئی ہے۔انہوں نے کہا: لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۷۹۴) نیز روایت نمبر ۱۷۸۵ میں فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطْفْ کے الفاظ بھی مذکور ہیں۔اس مضمون کی حضرت جابر ہی سے ایک اور روایت بھی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: أَحِلُّوا مِنْ إحْرَامِكُمُ بِطَوافِ الْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصَرُوا ثُمَّ اَقِيْمُوا حَلَالًا۔(بخاری، کتاب الحج، باب ۳۴ روایت نمبر ۱۵۶۸) یعنی بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر کے اپنا احرام کھول دو اور حجامت بنواؤ۔پھر اس کے بعد تم حج کی پابندیوں سے آزاد ہو کر قیام کرو۔ارشاد باری تعالیٰ میں بھی طواف بیت اللہ کو ہی حج یا عمرہ قرار دیا گیا ہے۔فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يُطَّوَّفَ بِهِمَا۔(البقرة:۱۵۹) مذکورہ بالا باب کی پانچویں روایت میں حضرت عمر کے قول اِن اَخَذْنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالسَّمَامِ سے بھی یہی مراد ہے کہ بیت اللہ کا طواف کر کے حج ادا ہو جاتا ہے۔لیکن سنت نبویہ یہ ہے کہ حج کرنے والا قربانی کے بعد احرام سے آزاد ہو جاتا ہے۔اس تعلق میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ حج میں قربانی ارکان حج میں سے ہے یا مستحب۔سو واضح ہو کہ یہ ارکان حج میں مستحب ہے۔ہر شخص کی طاقت نہیں کہ وہ قربانی کرے۔البتہ احصار یعنی جب کوئی روک پیدا ہو جائے تو اس صورت میں قربانی کرنے کا ارشاد ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: فَإِنْ اُحْصِرُ تُم فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي۔(البقرة : ۱۹۷) یعنی اگر تم رو کے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو؛ وہ کی جائے۔یعنی اونٹ بیل یا بکری اور میسر نہ ہونے کی صورت میں دس روزے ہیں یا چھ مساکین کو کھانا کھلانا۔اس تعلق میں دیکھئے باب ۳۲۔الفاظ أَحْلَلْنَا ثُمَّ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۷۷۷ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔