صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 33 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 33

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۳ ٢٤ - كتاب الزكاة بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَّمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ۔ کھجور کے ایک ٹکڑہ ہی سے ہو۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات سے ہی ۔ اطرافه ١٤١٧، ٣٥٩٥، ٦٠٢٣ ، ٦٥٣٩ ، ٦٥٤٠، ٧٤٤٣، ٧٥١٢۔ ١٤١٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۱۴۱۴: محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي ابواسامہ (حماد بن اسامہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے برید ( بن عبداللہ ) سے، برید نے ابو بردہ سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابو بردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری) ﷺ سے، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ حضرت ابوموسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ا الرَّجُلُ فِيْهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ثُمَّ لَا کی کہ آپ نے فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لئے چکر لگائے گا۔ پھر يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ وَيُرَى الرَّجُلُ بھی کسی کو نہیں پائے؟ پائے گا کہ جو اس سے وہ صدقہ لے الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُوْنَ امْرَأَةً يَلُذْنَ بِهِ اور ایک شخص دکھائی دے گا کہ اس کے پیچھے چالیس مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ۔ عورتیں ہوں گی۔ مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔ تشريح : الصَّدَقَةُ قَبْلَ الرَّةِ: مختلف حالات کے تحت نیکی و بدی نت نیلی و بدی اور جائز و نا جائز اعمال کا تصور قائم ہوتا ہے۔ نماز جو ایک نیک عمل ہے بوقت جہاد جبکہ دشمن حملہ آور ہو عمل صالح نہیں کہلائے گی۔ اسی طرح باقی اعمال کی قدر و قیمت اور ثواب و عقاب میں کمی بیشی حالات پر منحصر ہے اور تنگی و کشائش کے وقت میں صدقہ کی قدر و قیمت بھی مختلف ہوگی ۔ ایک تنگدست جو دو پیسے صدقہ دیتا ہے اور ا ہے اور ایک دولت مند جو سینکڑوں روپے صدقہ کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ دونوں ثواب میں برابر ہوں یا ایک روپیہ صدقہ دینے والا دولت مند سے ثواب میں بڑھ جائے اور اس کا صدقہ قبول ہوا اور دوسرے کارڈ، اگر وہ ریا کاری سے دیا گیا ہو۔ اسی نقطہ نظر کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ باب اور بعد کے ابواب نمبر ہ ۱ تا ۱۴ قائم کئے گئے ہیں۔ یہ مضمون بطور تمہید کے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جب مسلمانوں میں کوئی محتاج نہیں رہے گا اور سب دولت مند ہو جائیں گے اور اس وقت صدقہ کی صدقہ کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ السَّاعَة سے مراد مسلمانوں کی تباہی کی گھڑی ہے۔ دیکھئے کتاب الایمان تشریح روایت نمبر ۵۰ ۔ روایت نمبر ۱۴۱۳ میں مذکور دونوں پیشگوئیاں حیرت انگیز صورت میں پوری ہوئیں۔ نیز ایک پیشگوئی کا ایک سے زائد مواقع اور مختلف زمانوں اور متنوع صورتوں میں پورا ہونا بھی ممکن ہے۔