صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 456
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۵۶ ٢٦ - كتاب العمرة صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِيْنَ لِهِلَالِ ایسے وقت میں نکلے، جبکہ ذی الحج کا چاند نکل چکا تھا تو ذِي الْحَجَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عمرے کا احرام باندھنا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ چاہے تو وہ (اس کا ) احرام باندھ لے اور جو حج کا فَلْيُهِلَّ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ احرام باندھنا چا احرام باندھنا چاہے تو وہ (اس کا ) احرام باندھ لے اور اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں عمرے کا احرام باندھتا۔ فَلْيُهِلَّ وَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ صحابہ میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے عمرہ کا نام لے کر صلى الله بِعُمْرَةٍ فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ احرام باندھا تھا اور وہ بھی جنہوں نے حج کا نام لے کر مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ احرام باندھا تھا۔ اور میں اُن میں سے تھی جنہوں نے بِعُمْرَةٍ فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ پھر میں حائضہ ہوگی پیشتر اس فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ کے کہ میں مکہ میں داخل ہوتی ۔ عرفہ کا دن ایسے وقت فَشَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ میں آیا کہ میں ابھی تک حائضہ ہی تھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ( اپنی اس حالت کا ذکر کیا تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعِي عُمْرَتَكِ آپ نے فرم نے فرمایا کہ اپنا عمرہ رہنے دو اور اپنا سر کھول ڈا ، ڈالو وَالْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهْلِي اور کنگھی کرلو اور فرمایا کہ صاف ہونے پر حج کا نام بِالْحَجِّ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ لے کر احرام باندھو تو میں نے ایسا ہی کیا۔ (حج کے بعد ) الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى جس رات ہم محب پہنچے تو آپ نے میرے ساتھ التَّنْعِيمِ فَأَرْدَفَهَا فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عبد الرحمن کو تنعیم کی طرف بھیجا تو انہوں نے عُمْرَتِهَا فَقَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا (حضرت عائشہ کو) اپنے پیچھے سوار کیا تو (حضرت وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْي وَلَا عائشہؓ نے عمرہ کا نام لے کر لبیک پکارا۔ یہ عمرہ ان صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ۔ کے اس عمرے کے بدل میں تھا (جو اُن سے ترک ہو گیا تھا۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا حج اور عمرہ پورا کر دیا اور ان میں کوئی خامی نہ تھی۔ اس لئے نہ قربانی دینی پڑی اور نہ صدقہ اور نہ روزے رکھے گئے۔ إطرافه : ٢٩٤، ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1518 ، 1556، 1560، ١٥٦١، ١٥٦٢، ،۱۷۸۷،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ،۱۷۶۲ ،۱۷۵۷ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱٦٥٠،١٦٣٨ ٧٢٢٩۳۹۵ ٦١٥٧، ٠٥٥٥٩ ٥٥٤٨، ٥٣٢٩، ، ٤٤٠٨ ، ٤٤٠١ ٤، ،۲۹٢٩٥٢، ٨٤ ،۱۷۸۸