صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 451 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 451

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۵۱ ٢٦ - كتاب العمرة صلی روایت نمبر ۱۷۷۸ میں چار عمروں کا ذکر ہے کیونکہ حضرت انس نے صلح حدیبیہ والا عمرہ بھی شمار کیا ہے۔ آنحضرت اللہ علیہ وسلم عمرے کی نیت سے مدینہ منورہ سے نکلے اور حدیبیہ مقام پر رکنے کی وجہ سے وہیں قربانیاں کر دیں۔ گویا یہ عمرہ ہوا، جہاں تک ہو سکا۔ ارشاد باری تعالیٰ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ۔ (البقرة: ۱۹۷) یعنی اگر تم روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو؟ کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور کے نزدیک ایسے عمرے کے لئے قضا لازم نہیں۔ مگر احناف کے نزدیک لازم ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۷۶۰ ) روایت نمبر ۱۷۸۱ سے ظاہر ہے کہ حضرت براء بن عازب نے صلح حدیبیہ اور حجۃ الوداع والے عمرہ کو نظر انداز کر دیا ۔ الے عمرہ کو نظر انداز کر دیا۔ صرف ان دو عمروں کا ذکر کیا ہے جو صلح حدیبیہ کے دوسرے سال اور جعرانہ مقام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے؛ جبکہ آپ نے شوال کے آخر میں اسی غرض سے مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا اور ذی القعدہ کے شروع میں عمرہ کر کے وہاں سے مدینہ کی طرف لوٹے۔ ۱۷۸۲ : حد بَاب ٤ : عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ رمضان میں عمرہ کرنا حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۱۷۸۲: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی ( بن قطان ) عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے ، ابن جریج نے عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُخْبِرُ نَا يَقُوْلُ قَالَ عطا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةِ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے ہمیں خبر مِّنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيْتُ دی کہ رسول الله الله اللہ علیہ نے ایک انصاری عورت سے فرمایا۔ حضرت ابن عباس نے اس کا نام لیا تھا مگر میں اسْمَهَا مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحْجِيْ مَعَنَا قَالَتْ اس کا نام بھول گیا۔ ہمارے ساتھ حج کرنے سے كَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَكِبَهُ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ تمہیں کس بات نے روکا؟ تو اس نے کہا: ہمارا ایک لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ پانی لادنے والا اونٹ تھا۔ اس پر فلاں کا باپ اور اس عَلَيْهِ قَالَ فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيْهِ کا بیٹا جو اس کے خاوند سے ہے اور میرا بیٹا سوار ہو کر فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِّمَّا چلے گئے اور ایک ہی لا دو اونٹ چھوڑ گئے ۔ جس پر ہم قَالَ۔ پانی لادتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ ہو تو اس میں عمرہ کرو۔ کیونکہ رمضان میں عمرہ حج ہے۔ یا کچھ ایسی ہی بات آپ نے فرمائی۔ اطرافه: ١٨٦٣۔