صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 450 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 450

صحيح البخاری جلد۳ ۴۵۰ ٢٦ - كتاب العمرة الْحُدَيْبِيَّةِ وَمِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَمِنَ کیا تھا اور ایک عمرہ حدیبیہ کا اور ایک اس سے اگلے الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنِ سال ہوا اور ایک جعرانہ کا عمرہ جبکہ آپ نے حنین کی علیم میں تقسیم کیں۔ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ۔وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ۔اطرافه ،۱۷۷۸ ، ۱۷۷۹ ، ٣٠٦٦، ٤١٤٨۔۱۷۸۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ :۱۷۸۱ احمد بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا شریح بن مسلمہ نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن یوسف إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ مَسْرُوقًا وَعَطَاءً کے باپ نے ابو اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے وَمُجَاهِدًا فَقَالُوْا اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللَّهِ کہا: میں نے مسروق، عطاء اور مجاہد سے پوچھا تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے قبل ذی القعدہ میں عمرہ کیا اور ابو اسحاق قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ وَقَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ اعْتَمَرَ سے سنا۔وہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذی القعدہ میں دو دفعہ عمرہ کیا۔پیشتر اس کے کہ آپ ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ مَرَّتَيْنِ۔حج کرتے۔اطرافه: ١٨٤٤ ، ۲٦٩٨، ۲۶۹۹، ۲۷۰۰، ٣١٨٤، ٤٢٥١ تشریح: كُم اعْتَمَرَ النَّبِيُّ الله : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے سے متعلق اختلاف ہوا ہے کہ آیا دو عمرے کئے یا چار اور اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض نے صلح حدیبیہ والا عمرہ شمار نہیں کیا اور نہ وہ عمرہ جو حجۃ الوداع میں بصورت قران ہوا تھا۔بلکہ صرف عمرہ جعرانہ اور وہ عمرہ جو صلح حدیبیہ کے دوسرے سال ہوا۔ان دونوں کو عمرہ قرار دیا ہے اور یہ دونوں ذیقعدہ میں ہوئے۔یعنی ےھ میں قبل از فتح مکہ اور ۸ھ بعد از فتح اور محاصرہ طائف۔رجب میں آپ نے کوئی عمرہ نہیں کیا۔حضرت عبداللہ بن عمر کی یہ غلط نہی حضرت عائشہ نے دور کر دی جس پر وہ خاموش رہے۔باب ۳ میں سات روایتیں درج ہیں۔روایت نمبر ۱۷۷۶، ۱۷۷۷ میں ماہ رجب والے عمرہ کی نفی ہے۔یہ دونوں روایتیں عروہ بن زبیر سے ہیں۔پہلی میں سوال کمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ کا جواب مفصل ہے اور دوسری میں گمِ اعْتَمَرَ کے الفاظ نہیں ؛ صرف رجب میں عمرہ کئے جانے کی نفی کا ذکر ہے۔یہ اختلاف مٹانے کی غرض سے اس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے جو امام مسلم نے مفصل نقل کی ہے۔(مسلم، کتاب الحج، باب بيان عدد عمر النبي وزمانهن)