صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 452 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 452

صحيح البخاری جلد ۳ تشریح: ۴۵۲ ٢٦ - كتاب العمرة عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ : اگر چہ عمرہ سارا سال ہی ہو سکتا ہے۔مگر بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ خاص دن یا خاص وقت میں ہو تو وہ افضل ہے۔اس قسم کی روایتوں کی صحت وسقم کے بارہ میں چار ابواب ( نمبر ۴ تا ۷ ) قائم کر کے آٹھویں باب میں بتایا ہے کہ عمرے کے ثواب کی زیادت مشقت پر ہے؛ دن اور وقت پر نہیں۔اس کے لئے جتنی دور سے آنا پڑے گا۔اسی قدر ثواب ہو گا۔رمضان میں عمرے کی فضیلت سے متعلق ابن جریج کی جو روایت نقل کی گئی ہے؛ اس میں راوی کو عورت کا نام یاد نہیں رہا۔( روایت نمبر ۱۷۸۲) لیکن روایت نمبر ۱۸۶۳ میں بتایا گیا ہے کہ وہ حضرت ام سنان تھیں۔بھولنے والے راوی ابن جریج ہیں نہ عطاء بن ابی رباح۔جن کی روایت حبیب معلم کی سند سے بھی مروی ہے۔اس میں اس عورت کا نام ام سنان مذکور ہے۔مسند احمد وغیرہ کی روایت میں ذکر ہے کہ بنی اسد کی ایک عورت نے جن کا نام حضرت ام معتقال تھا؛ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے آپ کے ساتھ حج کرنے کا ارادہ کیا تھا گر میرا اونٹ گم ہو گیا۔جس پر آپ نے انہیں مذکورہ بالا ارشاد فرمایا۔(مسند احمد بن حنبل جزء ۶ صفحه ۴۰۶) ابوداؤد نے بھی انہی اتم معقل کی ایک روایت نقل کی ہے؛ جس میں ان کے خاوند کے بیمار ہونے اور مرنے کا ذکر ہے اور یہ کہ آپ نے فرمایا: اگر جج رہ گیا ہے تو رمضان میں عمرہ کر لینا حج ہی کی طرح ہے۔(ابو داؤد، کتاب المناسک، باب العمرة ) امام ابن حجر کی رائے میں یہ دوالگ الگ واقعات ہیں۔ایک انصاری عورت کا اور دوسرا اسد یہ عورت کا۔( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۷۶۲۷۶۱ ) باب ٥ : الْعُمْرَةُ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ وَغَيْرِهَا مقام محصب کی رات میں یا اس کے علاوہ اور کسی وقت عمرہ کرنا ۱۷۸۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۱۷۸۳ محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ ابو معاویہ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ نے ہمیں خبر دی۔ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا باپ ( عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ) ہم رسول اللہ نے وَسَلَّمَ مُوَافِيْنَ لِهلَالِ ذِي الْحَجَّةِ کے ساتھ (مدینہ سے) ایسے وقت میں نکلے کہ ذی الحج فَقَالَ لَنَا مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ کا چاند نکلنے کو تھا تو آپ نے ہم سے فرمایا: تم میں سے بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ (حج کا ) احرام باندھے بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلَوْلَا أَنِّي اور جو عمرے کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا احرام باندھ