صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 442
صحيح البخاری جلد۳ ۴۴۲ ٢٥- كتاب الحج قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں سمجھتی ہوں کہ تمہیں سفر سے روک رکھوں گی۔عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ قِيْلَ نبی ﷺ نے فرمایا: اے بھلی مانسی ! کیا قربانی کے نَعَمْ قَالَ فَانْفِرِيْ۔دن طواف زیارت کر لیا تھا ؟ آپ سے کہا گیا کہ ہاں۔آپ نے فرمایا: پھر کوچ کرے۔اطرافه: ۲۹٤، ۳۰۵ ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸ ۱۵۱٦، ١٥۱۸، ١٥٥٦، ١٥٦٠، ،١٧٥٧، ١٧٦٢ ، ۱۷۳۳ ، ۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱١٥٦١، ١٥٦٢، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ۷۲۲۹ ،٤٤٠٨ ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩ ٦١٥٧ ۱۷۷۲ : قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَزَادَنِي ۱۷۷۲: ابو عبد اللہ نے کہا: محمد بن سلام ) نے مجھ سے مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ حَدَّثَنَا اتنا زیادہ بیان کیا، کہا : ) محاضر نے ہم سے بیان کیا کہ ( الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْأَسْوَدِ اعمش نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ اسود سے، انہوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی۔انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وَسَلَّمَ لَا تَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا قَدِمْنَا ( دین سے) نکلے ہم حج ہی کا ذکر کر رہے تھے۔جب (مدینہ أَمَرَنَا أَنْ نَّحِلَّ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ ہم (مکہ) پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ احرام کھول ڈالیں۔جب کوچ کی رات ہوئی تو حضرت صفیہ بنت حی حائضہ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ہوگئیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: عقربی حلقی " میں سمجھتا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَى عَقْرَی ہوں کہ وہ تمہیں سفر سے روکے رکھے گی۔پھر فرمایا: کیا مَا أَرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَكُمْ ثُمَّ قَالَ كُنْتِ تم نے قربانی کے دن طواف کیا تھا؟ انہوں نے کہا: طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ہاں۔فرمایا: تو پھر کوچ کرو۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! فَانْفِرِيْ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي لَمْ میں نے تو احرام نہیں کھولا۔فرمایا: تو پھر تنعیم سے عمرہ عفری کا معنی ہے بانجھ اور خلقی یعنی بال کاٹنے والی۔لیکن یہاں یہ الفاظ اپنے ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ ان سے مراد اُس اضطراب کا اظہار ہے جو بعض وقت انسان ایسے موقع پر محسوس کرتا ہے۔مفہوماً " اے بھلی مانس یا اللہ کی بندی مراد ہے۔مزید وضاحت کے لیے روایت نمبر ۱۵۶۱ کی تشریح دیکھئے۔