صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 443 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 443

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٥ - كتاب الحج أَكُنْ حَلَلْتُ قَالَ فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ کر لو۔ تو ان کے ساتھ ان کے بھائی نکلے ۔ ( اور فارغ فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا فَلَقِيْنَاهُ مُدَّلِجًا ہو کر ہم آپ سے اس وقت ملے جب آپ رات فَقَالَ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ۔ کے پچھلے پہر (طواف وداع کے لئے ) نکلے اور آپ نے فرمایا تھا کہ تم ہمیں فلاں فلاں جگہ پر آ کر ملنا۔ اطرافه: ٢٩٤، ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1518، 1556، 1560، ،١٧٥٧، ١٧٦٢ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱650 ،1638 ،١٥٦١، ١٥٦٢ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۱ ٤٤٠٨ ، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٠٥٥٥٩ ١٥٧، ٧٢٢٩۔ تشريح : الْإِدْلَاجُ مِنَ الْمُحَصَّبِ : العلاج کے معنی ہیں رات کے پہلے پر سفر کرنا۔ پہر سفر کرنا۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ یہ باب اس غرض سے قائم کیا گیا ہے کہ سابقہ ابواب میں مقام محصب میں قیام نشیب کا جو ذکر ہے، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ ضروری اور مناسک حج کا حصہ ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم میں عمرہ کا احرام باندھنے کی غرض سے رات کو ہی چلی گئی ہیں اور محقب میں نہیں ٹھہریں۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ (۷۵) امام موصوف نے ابواب واحادیث کی ترتیب میں باریک ملاحظات مد نظر رکھتے ہیں۔ کتاب الحج جب شروع کیا ہے تو سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمرہ والے واقعہ سے ابتداء کی ہے۔ ( باب ۳) اور اس کا خاتمہ بھی اسی پر کیا ہے۔ روایات مندرجہ باب نمبر ۲۰۱ کے بعد بتایا کہ احکام حج وغیرہ کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا تھا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے اور اس میں عمرہ بھی ہوا۔ چنانچہ احکام حج و عمرہ بیان کرتے رہے۔ شروع اور آخر کو آپس میں مربوط کر دیا ہے اور اس خاتمے کے بعد ابواب عمرہ شروع ہوتے ہیں۔ 0000000000