صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 441 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 441

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۱ ٢٥-كتاب الحج احرام باندھنے کے بعد اگر گھروں کو واپس جانا پڑتا تو دروازے سے نہیں بلکہ پچھواڑے سے اندر داخل ہوتے۔(دیکھئے تشریح باب (۹) قربانی کا خون کعبہ کی دیواروں پر ملتے اور گوشت بطور نذرانہ دروازے کے سامنے رکھ دیتے کہ خدا اس خون و گوشت سے خوش ہوتا ہے۔بعض حج میں بولنا ترک کر دیتے۔اس کا نام حج مصمت تھا۔( روایت نمبر ۳۸۳۴) بغیر زادراہ سادھووں کی طرح نکل پڑتے۔(دیکھئے تشریح باب ۲) چربی گھی وغیرہ کا استعمال بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔(دیکھئے تشریح باب ۹۱ ) حج کے ایام میں عمرہ کرنا بھی ان کے نزدیک سخت گناہ تھا۔( روایت نمبر ۱۵۶۴) مٹی میں آباؤ اجداد پرستی کا مظاہرہ ہوتا اور باپ دادوں کے کار ہائے نمایاں فخر کے ساتھ بیان کئے جاتے۔جس کو اسلام نے منسوخ کر کے ذکر الہی پر لگا دیا۔قریش مزدلفہ میں مشعر الحرام کے پاس ٹھہر جاتے ، جو حرم کے اندر ہے اور حرم کی حدود سے نکلنا اپنے تقدس کے خلاف سمجھتے ( روایت نمبر ۱۲۶۵) اور وہ بھی وہاں قیام کے دوران اپنے باپ دادوں کی مدح میں فخریہ قصائد پڑھتے قتل وغارت کے عادی قبائل میں سے جب کوئی قبیلہ دیکھتا کہ حج کے مہینوں میں سے کسی مہینہ میں وہ پابند ہو جائے گا۔اس کا خطیب اعلان کر دیتا کہ اس کی جگہ فلاں مہینہ حرمت کا ہے۔اس طرح کھلی اجازت دی جاتی۔کبھی ماہ محرم حلال ہوتا، کبھی ماہ صفر۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۵۶۴۔نیز فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۳۷ شرح باب ۳۴) خلاصہ یہ کہ اس قسم کے تمام مشرکانہ رسم و رواج کا اسلام نے قلع قمع کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس اسوہ حسنہ کی برکت سے نفوس میں خارق عادت تبدیلی ہوئی اور تقویٰ و طہارت کے بارہ میں عربوں کا شعور و احساس لطیف ہو گیا۔جس کی ایک مثال باب ہذا کے موضوع سے ظاہر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوت قدسیہ سے عربوں میں اس درجہ تبدیلی کی کہ آپ کا اعجاز از خود نمایاں ہو جاتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلَّمْ۔بَابِ ١٥١ : الْإِدِلَاجُ مِنَ الْمُحَصَّبِ رات کے پچھلے حصہ میں محصب سے کوچ کرنا ۱۷۷۱: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۱۷۱ : عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ إِبْرَاهِيمُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ ابراہیم نے مجھے بتایا۔انہوں نے اسود سے،اسود نے اللهُ عَنْهَا قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں النَّفْرِ فَقَالَتْ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ نے کہا: کوچ کی رات صفیہ حائضہ ہوئیں تو کہنے لگیں: