صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 440
صحيح البخاري - جلد۳ موم ٢٥- كتاب الحج تشریح التِّجَارَةُ أَيَّامَ الْمَوْسِمِ : مشرکین عرب کے نزدیک بیت اللہ کا حج بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔جیسا کہ قدیم تاریخ عرب اور قدیم شعراء کے کلام کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے۔بیت اللہ کا طواف، عرفات کا قیام، ہنی میں قربانی وغیرہ سب ان میں موجود تھیں۔لیکن حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی خالص توحید؟ بت پرستی اور مشرکانہ عقائد و رسوم سے خلط ملط کر کے مسخ کر دی گئی تھیں۔اسلام نے پھر اسے اصل صورت پر بحال کیا اور جو باتیں درست تھیں؟ انہیں بعض پابندیوں کے ساتھ قائم رکھا۔جن میں سے بیت اللہ کا طواف بھی تھا اور بیت اللہ میں اعتکاف بھی۔(اس تعلق میں دیکھئے باب ۱۳۴۹۱۔نیز کتاب الاعتکاف بابا) اور بیت اللہ کی تعظیم ان کے دلوں میں یہاں تک راسخ تھی کہ سوار ہو کر حج کرنا بیت اللہ کی تعظیم کے خلاف سمجھا جاتا تھا اور بیت اللہ کا حرم اتنا مقدس تھا کہ بیٹا باپ کا اور باپ بیٹے کے قتل کا انتقام لینا گناہ عظیم سمجھتا تھا۔یہاں تجارتی کاروبار بھی ہوتا تھا۔تجارتی منڈیاں عکاظ ، ذی الحجاز، مجتہ اور حباشہ میں قائم کی جاتی تھیں اور بالعموم ماہ رجب میں یہ کاروبار جائز سمجھا جاتا تھا۔ذی المجاز کی منڈی عرفات کے قریب اور عکاظ ؛ مخلہ اور طائف کے درمیان قرن المنازل کے ورے فتق بستی کے قریب اور محنہ ، مر الظہران میں اصغر پہاڑی کے قریب قائم کی جاتی تھی۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۷۵۰۰۷۴۹) عنوانِ باب کا تعلق موسم حج میں تجارت اور زمانہ جاہلیت کی منڈیوں سے خرید وفروخت سے ہے۔یہ عنوان دو حصوں میں تقسیم کر کے محولہ بالا روایت کا مفہوم واضح کیا گیا ہے کہ صحابہ کرام مطلق تجارت جائز سمجھتے تھے۔مگر حج کے ایام میں بحالت احرام ان کے نزدیک تجارت کرنا حج کے منافی تھا۔اس تقسیم سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ بحالت احرام صحابہ کرام کا یہ احساس درست تھا۔مگر حج سے فراغت پانے اور حج کے مہینہ میں تجارتی کاروبار سابقہ عقیدے کی بناء پر درست نہیں تھا۔جس کی اصلاح کی گئی۔روایت نمبر ۷۷۰ میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کے آخر میں فِی مَوَاسِمِ الحج ہے۔یہ الفاظ روایت کا حصہ نہیں بلکہ تفسیر ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ۷۵۰ ) اس سے قبل مشرکین کی رسوم اور ان کی اصلاح کا ذکر گذر چکا ہے۔مثلاً بیت اللہ جو تو حید پرستی کا گھر تھا؛ اس میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی مورتیاں اور تین سو ساٹھ بت رکھے گئے تھے۔(با) اس بت پرستی کی ابتداء جیسا کہ تاریخ قدیم میں آتا ہے عمرو بن لحي کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے دو سو سال قبل ہوئی۔ایام حج میں تالیاں بجا بجا کر ان بتوں کی پوجا ہوتی۔بیت اللہ کا طواف نگا کیا جاتا۔( باب ۶۷ روایت نمبر ۱۶۲۲۔باب ۹۱ روایت نمبر ۱۲۶۵) صفا اور مروہ پر نائلہ اور اساف کے بت تھے ، جن کا طواف کیا جاتا۔(أخبار مكة، ذكر الأصنام التي كانت بين الصفا والمروة، جزء ۲ صفحه ۲۴۱) الفاظ تلبیہ لَا شَرِیک کے بعد إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَ مَا مَلَک کا اضافہ کیا جاتا۔(مسلم، کتاب الحج، باب التلبية وصفتها) (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب ما كان المشركون يقولون في التلبية، روایت نمبر ۸۸۱۹، جز ء۵ صفحه ۴۵) ( بخاری کتاب الحج تشریح باب ۲۲) سورج دیوتا کی پوجا کی جاتی۔(دیکھئے تشریح باب ۱۰۰٫۹۵)