صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 439
صحيح البخاری جلد۳ ٢٥ - كتاب الحج أَقْبَلَ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ کہ جب وہ (مدینہ سے ) آتے تو ذی طوئی میں دَخَلَ وَإِذَا نَفَرَ مَرَّ بِذِي طُوًى وَبَاتَ رات گزارتے۔یہاں تک کہ جب صبح ہوتی تو ( مکہ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ میں داخل ہوتے اور جب کوچ کرتے تو ذی طویٰ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ سے ہی گذرتے اور وہاں رات ٹھہرتے۔یہاں تک کہ صبح ہوتی اور ذکر کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ذَلكَ۔اطراف: ٤٩١، ١٧٦٧۔تشریح: ہی کیا کرتے تھے۔مَنْ نَّزَلَ بِذِى طُوًى إِذَا رَجَعَ مِنْ مَّكَّةَ : بعض کو غلط نہی ہوئی ہے کہ قیام شب جو منی سے ی کوچ کے دن وادی محصب میں کیا تھا وہ مراد ہے۔ایسا نہیں بلکہ وہ قیام شب مراد ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں ذواج کو بعد طواف وداع کے ذی طوئی میں کیا تھا۔دونوں قیام کی جگہ الگ الگ ہے۔ایک مضب میں اور دوسرا ذی طوئی میں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۷۴۸ ) اس تعلق میں باب ۴۰ ۴۱ بھی دیکھئے۔نیز جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے، مذکورہ بالا مقامات مناسک حج میں سے نہیں۔بَاب ١٥٠ : التِّجَارَةُ أَيَّامَ الْمَوْسِم وَالْبَيْعُ فِي أَسْوَاقِ الْجَاهِلِيَّةِ حج کے دنوں اور زمانہ جاہلیت کی منڈیوں میں تجارت و خرید وفروخت کرنا ۱۷۷۰ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ۱۷۷۰: عثمان بن ھیثم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ جریج نے ہمیں خبر دی۔عمرو بن دینار نے کہا: حضرت دِينَارٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ذوالحجاز وعکاظ كَانَ ذُو الْمَجَازِ وَعُكَاظٌ مَتْجَرَ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی منڈیاں تھیں۔جب النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ اسلام آیا تو لوگوں نے (حج کے دنوں میں ) وہاں كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَلِكَ حَتَّى نَزَلَتْ تجارت کرنا مکروہ جانا۔یہاں تک کہ یہ آیت نازل لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا ہوئی: یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم حج کے دنوں مِّنْ رَّبِّكُمُ (البقرة : ۱۹۹) في میں اپنے رب سے فضل چاہو۔مواسم الحج۔اطرافه: ٢٠٥٠، ۲۰۹۸، ٤٥۱۹۔