صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 30
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۰ قسم کے محاورہ میں استعمال کرتے ہیں۔جیسے شماخ شا عر عرابہ کی تعریف میں کہتا ہے :- ٢٤ - كتاب الزكاة إِذَا مَا رَايَةٌ رُفِعَتْ لِمَجْدٍ تَلَقَّاهَا غُرَابَةُ بِالْيَمِينِ (لسان العرب تحت لفظ يمن) یعنی جب بڑائی کے لئے جھنڈا بلند کیا جاتا ہے تو عرابہ دائیں ہاتھ سے اُسے لیتا ہے۔یعنی مضبوطی اور یمن و برکت سے۔كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ : عرب اپنے گھوڑوں خصوصا بچھیروں کی محبت اور پرورش میں مشہور ہیں۔اس لئے ان کو سمجھانے کی غرض سے پچھیرے کی مثال دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ کھجور کا صرف ایک ہی دانہ صدقہ دیا گیا ہے۔بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ صدقے کی شرطیں اس میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔اگر پائی جاتی ہوں تو وہ اسی ایک دانہ کو اتنی برکت دینے کا وعدہ فرماتا ہے کہ انسان اس کا قیاس بھی نہیں کر سکتا۔اُحد پہاڑ کی مثال بھی یہی سمجھانے کے لئے دی گئی ہے۔اس تعلق میں کتاب الایمان روایت نمبر ۷ ہم بھی دیکھئے۔صحیح مسلم کی روایت میں ہے: حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ (مسلم، كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها ) اور ایک روایت میں وَهِيَ أَعْظَمُ مِنْ اُحد کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴ ۳۵) انفاق فی سبیل اللہ ان اسلامی احکام میں سے ہے جن کا تعلق قوم کی اقتصادی بہبود و ترقی سے ہے اور صدقہ اسلامی تعلیم کا ایک اہم رکن ہے کہ اس سے غریب طبقہ جو بوجہ تہی دسی معطل ہے، کارآمد وجود بننے کا موقع پاتا ہے۔اگر مالی امداد سے وہ کام کرنے کے قابل ہوگا تو وہ قومی ثروت بڑھانے کا موجب ہوگا۔علاوہ ازیں جو شخص اپنے مال سے فی سبیل اللہ صدقہ نکالتا ہے، خود اس کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کا مال کم نہیں ہوگا بلکہ بڑھتار ہے گا۔فرماتا ہے: قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ (٢٠) يُخْلِفُهُ کے معنے ہیں انفاق سے جو کی ہوتی ہے وہ کمی پوری کرے گا۔اَخْلَفَ الشَّجَرَةَ اس نے درخت کو پیوند لگایا تا اچھے پھل دے اور سلسلہ بار آوری قائم رہے۔(دیکھئے تشریح باب ۱۰ و ۲۸) عنوانِ باب میں آیت محولہ بالا کا انتخاب بھی اس جہت سے قابل قدر ہے کہ اس میں سود کا ذکر ہے جو عین ضد ہے زکوۃ وصدقات کی کہ اس میں سودی کاروبار کرنے والا محتاج افراد سے ان کے اموال اس غرض سے اپنے پاس سمیٹتا ہے کہ اپنی دولت بڑھائے۔جبکہ زکوۃ میں ان کو مال دیا جاتا ہے کہ وہ اُٹھیں اور بڑھیں۔زکوۃ اور ر با نتائج کے لحاظ سے بھی ضدین ہیں۔محق کے معنی ہیں باطل کر دینا۔يَمُحَقُ الله الربا۔اللہ سود کی غرض باطل کر دیتا ہے۔یعنی اس کا مال نہیں بڑھتا اور اس میں برکت نہیں ہوتی۔(اس تعلق میں دیکھئے تشریح کتاب البیوع ابواب الربا ، باب ۲۸) إِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ۔اللہ دائیں ہاتھ سے اس کو قبول کرتا ہے یعنی اسے برکت دیتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے پوچھے گا کہ میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانے کو نہ دیا۔انسان تعجب سے پوچھے گا کہ آپ کب بھو کے تھے؟ فرمائے گا : میرا بندہ بھوکا تھا اور تو نے اسے نہ دیا۔(مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل عيادة المريض) حدیث مذکورہ بالا میں بھی صدقہ لینے والے کا ہاتھ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ قرار دیا گیا ہے۔