صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 29
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹ ٢٤ - كتاب الزكاة هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عبد الرحمن نے جو کہ عبداللہ بن دینار کے بیٹے ہیں أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ وَسَلَّمَ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے پاکیزہ کمائی كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ دیا اور اللہ پاکیزہ فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيْهَا چیز ہی قبول کرتا ہے اور اللہ اس صدقہ کو اپنے دائیں لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى ہاتھ سے قبول کرتا ہے۔ پھر صدقہ دینے والے کے تَكُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ۔ تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ عَنِ لئے اس کو بڑھاتا ہے؛ اسی طرح جس طرح کہ تم میں ابْنِ دِينَارٍ وَقَالَ وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ دِينَارٍ سے کوئی اپنا پھیرا پالتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ (صدقہ ) عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ پہاڑ برابر ہو جاتا ہے۔ (عبدالرحمن کی طرح) سلیمان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ (بن بلال) نے بھی (عبداللہ ) بن دینار سے یہ حدیث عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ أَبِي روایت کی اور ورقاء نے بھی ( عبداللہ بن دینار سے روایت کی۔ انہوں نے سعید بن یسار سے ، سعید نے حضرت ابو ہریرہ مَرْيَمَ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَسُهَيْلٌ عَنْ أَبِي رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے۔ صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اور مسلم بن ابی مریم اور زید بن اسلم اور سہیل نے ابو صالح عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت اطرافه: ٧٤٣٠۔ : ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ۔ تشريح : الصَّدَقَةُ مِنْ كَسْبِ طَيِّبٍ : باب ، میں ملی پہلوہ نظر رک کر صدقہ کے بارے میں شریعت اسلامیہ کی تعلیم پیش کی گئی ہے۔ یعنی صدقہ صدقہ میں نہ ریاء ہو، نہ اظہا ر احسان اور نہ کسی قسم کی ایذ کی ایذا دہی اور صدقہ چوری، رشوت اور خیانت وغیرہ کے مال سے نہ دیا جائے۔ صدقہ مشتق ہے صدق سے۔ صدق کے معنی ہیں خالص۔ باب نمبر ۸ میں صدقہ سے متعلق مثبت پہلو بیان کیا گیا ہے۔ یمین ( دایاں ہاتھ ) عربی زبان میں خیر و برکت اور قدرت و طاقت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس کا وہی مفہ ۔ یہاں اس کا وہی مفہوم ہے جو آیت فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا۔ (ال عمران : (۳۸) یعنی اچھی طرح قبول کرے گا اور بڑھائے گا۔ عرب لوگ عموماً یمین کا لفظ اسی