صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 430
صحيح البخاري - جلد ٣ ۴۳۰ ٢٥-كتاب الحج ١٧٥٦ : حَدَّثَنَا أَصْبَعُ بْنُ الْفَرَج :۱۷۵۶ اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ ابن وہب نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے عمرو بن الْحَارِثِ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ حارث سے، انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رَضِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں۔پھر محقب میں تھوڑ اسا سوئے۔وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف گئے اور اس بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ کا طواف کیا۔عمرو بن حارث کی طرح لیٹ نے بھی فَطَافَ بِهِ۔تَابَعَهُ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدٌ یہی بات بیان کی۔(کہا) کہ خالد نے مجھے بتایا۔عَنْ سَعِيْدٍ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ انہوں نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے روایت کی اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى که حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اُن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت روایت کرتے ہوئے یہ رضي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ١٧٦٤- بیان کیا۔تشریح: اختلاف ہے کہ آیا یہ واجب ہے جس کے ترک کرنے پر فدیہ لازم آئے گا یا سنت؟ اکثر ائمہ نے اسے واجب قرار دیا ہے اور نہ کرنے پر قربانی لازم کبھی ہے۔مگر امام مالک وغیرہ کے نزدیک سنت ہے اور اگر نہ کیا جائے تو فدیہ قربانی لازم نہیں آتا۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۷۳۹) امام بخاری نے باب کا عنوان طواف الوداع قائم کر کے اس میں کسی فیصلہ کا اظہار نہیں کیا۔البتہ روایت نمبر ۱۷۵۵ میں دو باتوں کا ذکر ہے۔(1) اُمِرَ النَّاسُ یعنی لوگوں کو حکم ہوا۔(٢) خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ۔یعنی حائضہ سے تخفیف کی گئی ہے۔سیہ دونوں فقرے وجوب پر دلالت کرتے ہیں اور روایت نمبر ۷۵۶ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ظاہر ہے۔چونکہ ان دونوں روایتوں میں طواف الوداع کے ترک ہو جانے پر کسی فدیہ کا ذکر نہیں۔اس لئے امام بخاری نے عنوانِ باب میں خاموشی اختیار کی ہے۔طَوَافُ الْوَدَاعِ : طواف الوداع مکہ مکرمہ سے لوٹتے وقت کیا جاتا ہے اور اس کے متعلق علاء