صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 429 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 429

صحيح البخاری جلد۳ ۴۲۹ ٢٥- كتاب الحج تشریح: الطّيبُ بَعْدَ رَمُيِ الْحِمَارِ : اس تعلق میں دیکھئے تشریح باب ۱۸۔جہاں احرام باندھنے پر ان باتوں کا ذکر ہے جو بحالت احرام جائز نہیں۔ان میں سے خوشبو کا استعمال بھی ہے۔حضرت عائشہ کی مذکورہ بالا روایت وہاں زیر نمبر ۱۵۳۹ ایک دوسری سند سے مذکور ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ رمی کے بعد اور طواف زیارت سے قبل جو باتیں جائز ہو جاتی ہیں، ان میں خوشبو کا استعمال بھی ہے۔رمی کے بعد حجامت بنوانے پر احرام کھول دیا جاتا ہے اور اس وقت سوائے مباشرت کے باقی باتیں جائز ہوتی ہیں۔طواف افاضہ ( یعنی طواف زیارت ) کے بعد ازدواجی تعلقات بھی جائز ہیں۔باب نمبر ۱۴۳ ایک اختلاف کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے۔حضرت عمرؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے منقول ہے کہ رمی کے بعد ہر بات جائز ہو جاتی ہے، سوائے خوشبو اور مباشرت کے۔یہ دونوں باتیں جائز نہیں ہوتی ہیں، جب تک طواف افاضہ نہ کیا جائے۔مگر جمہور کے نزدیک رمی کے بعد احرام کھولنے پر سوائے مباشرت کے باقی تمام ممنوعہ امور ؛ سلے ہوئے کپڑے پہنا، خوشبو وغیرہ لگانا جائز ہے۔اس اختلاف کی تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۹۳۔كَانَ أَفْضَلَ أَهْلِ زَمَانِهِ : یہ عبد الرحمن قاسم کے بیٹے تھے اور قاسم محمد بن ابی بکر صدیق کے۔قاسم کا شمار سات فقہائے مدینہ میں ہوتا ہے۔انہی کے متعلق عمر بن عبد العزیز خلیفہ اموی نے فرمایا تھا کہ اگر سلیمان بن عبد الملک؛ یزید بن عبد الملک کو نامزد نہ کرتے تو قریش میں یہی اپنے زہد، تقوی اور فقہی اجتہاد کی وجہ سے بلند پایہ تھے۔(عمدۃ القاری جزءه صفحه ۹۴ ) ان کے قول کے پیش نظر باقی اقوال نظر انداز ہونے کے قابل ہیں۔بَابِ ١٤٤: طَوَافُ الْوَدَاعِ طواف الوداع ١٧٥٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۱۷۵۵ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ( بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (عبدالله) ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ أُمِرَ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ روایت کی کہ انہوں نے کہا: لوگوں کو حکم ہوا کہ ان کا اعمال حج میں سے ) آخری عمل بیت اللہ کی زیارت إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ۔اطرافه: ۳۲۹، ١٧٦٠- ہو۔مگر حائضہ اس زیارت سے مستفی کی گئی ہے۔(ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء في الطيب عند الإحلال قبل الزيارة) (صحيح ابن خزيمة كتاب المناسک، باب الرخصة في ما حرم على المحرم بعد رمي الجمرة، روایت ۲۹۳۹، جز ۴۶ صفحه ۳۰۳)