صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 428
صحيح البخاری جلد۳ تشریح ۴۲۸ ٢٥- كتاب الحج الدُّعَاءُ عِنْدَ الجَمُرَتَيْنِ : بوقت دعا رفع یدین کے مسئلہ میں صرف امام مالک کو جمہور کی رائے سے اختلاف ہے اور شارحین کو تعجب ہوا ہے کہ امام مالک روایت نمبر ۱۷۵ سے ایسے ناواقف ہوں جو سالم بن عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے اور وہ مدینہ کے مشہور ترین فقہائے سبعہ میں سے ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۷۳۷) زیر شرح بال!!) دعائے قنوت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اُٹھانا ثابت ہے۔(الهداية شرح البداية، كتاب الصلاة، باب صلاة الوتر محولہ بالا روایت ( نمبر ۱۷۵۱) از قسم افراد ہے۔یعنی صرف عثمان بن ابی شیبہ سے مروی ہے جن کی صحیح بخاری میں صرف یہی ایک روایت ہے۔مگر امام موصوف نے اگلے باب کی روایت نمبر ۲ ۱۷۵ میں دوسری سند سے اس کی تائید کی ہے۔اس تعلق میں ملاحظہ ہو باب ۱۴۱ جس میں زہری سے یہی روایت بطور مرسل منقول ہے اور یہی خامی آخری حوالہ (زیر روایت نمبر ۱۷۵۳) سے دور کر دی ہے۔یعنی اسے موصول ثابت کیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۹۳) ( فتح الباری جزء۳ صفحه ۷۳۷ ) باب ۱۴۰، ۱۴۲،۱۴۱ کی روایتیں بلحاظ مضمون ایک دوسرے کی مؤید ہیں اور جمرہ اولی اور جمرہ وسطی میں بوقت رمی تکبیر وقوف دعا اور رفع یدین ثابت ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔جس پر اکثریت کا تعامل ہے۔روایت نمبر ۷۵۳ میں جس مسجد منی کا ذکر ہے وہ مسجد خیف ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۹۲، شرح باب ۱۴۱) بَاب ١٤٣: الطَّيْبُ بَعْدَ رَمْيِ الْحِمَارِ وَالْحَلْقُ قَبْلَ الْإِفَاضَةِ جمرات پر رمی کرنے کے بعد خوشبو لگانا اور سرمنڈوانا پیشتر اس سے کہ طواف زیارت کیا جائے عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۱۷۵۴ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ عبدالرحمن بن قاسم الْقَاسِمِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ وَكَانَ أَفْضَلَ نے نہیں بتایا کہ انہوں نے اپنے باپ سے سنا اور وہ أَهْلِ زَمَانِهِ يَقُوْلُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اپنے زمانہ کے بہت بڑے بزرگ تھے۔وہ کہتے تھے: حَدَّثَنَا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔وہ کہتی اللهُ عَنْهَا تَقُوْلُ طَيَّيْتُ رَسُوْلَ اللهِ تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔اس وقت بھی جب حِيْنَ أَحْرَمَ وَلِحِلِهِ حِيْنَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ آپ نے احرام باندھا اور احرام کھولتے وقت بھی؟ يَطُوْفَ وَبَسَطَتْ يَدَيْهَا۔جب آپ نے طواف زیارت سے پہلے احرام کھولا اور حضرت عائشہ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے۔( یعنی بتایا کہ ان ہاتھوں سے۔) اطرافه ،۱۵۳۹ ، ۵۹۲۲، ۵۹۲۸، ۵۹۳۰