صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 427 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 427

صحيح البخاری جلد ۳ بَاب ١٤٢ : الدُّعَاءُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ دونوں جمروں کے پاس دعا کرنا ٢٥-كتاب الحج ١٧٥٣: وَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۷۵۳ : اور محمد بن بشار ) نے کہا: عثمان بن عمر عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ نے ہم سے بیان کیا۔یونس نے ہمیں خبر دی کہ زہری الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي جمرہ پر رمی کرتے جو منی کی مسجد سے متصل ہے، سات مَسْجِدَ مِنِّى يَرْمِيْهَا بِسَبْع حَصَيَاتٍ کنکریاں اس پر پھینکتے۔ہر دفعہ کنکری پھینکنے پراللہ اکبر يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ کہتے۔پھر آپ آگے بڑھ جاتے اور قبلہ رخ ہوکر أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوکر دعا يَدَيْهِ يَدْعُو وَكَانَ يُطِيْلُ الْوُقُوْفَ ثُمَّ کرتے اور یہ وقوف آپ دیر تک کرتے پھر آپ دوسرے جمرہ پر آتے اور وہاں بھی سات کنکریاں يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيْهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ ھینکتے۔ہر دفعہ آپ کنکر پھینکے پر اللہ اکبر کہتے۔پھر بائیں جانب اس جگہ نشیب میں جاتے جو وادی سے يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ متصل ہے۔قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر کھڑے دعا فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ عند کرتے۔پھر اس جمرہ کے پاس آتے جو عقبہ کے پاس ہے اور اس پر سات کنکریاں پھینکتے۔ہر کنکری پر الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيْهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ اللہ اکبر کہتے۔پھر فارغ ہوکر وہاں سے واپس چلے ، كُلَّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ آتے اور وہاں وقوف نہ کرتے۔زہری نے کہا: میں عِنْدَهَا۔قَالَ الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ نے سالم بن عبداللہ کو اسی طرح اپنے باپ سے عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ مِثْلَ هَذَا عَنْ أَبِيْهِ عَنِ روایت کرتے ہوئے سنا۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ روایت کرتے تھے اور حضرت ابن عمر خود بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ۔اطرافه: ۱۷٥۱، ۱۷۵۲۔