صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 426 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 426

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۲۶ ٢٥-كتاب الحج ° بَاب ١٤١ : رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ جَمْرَةِ الدُّنْيَا وَالْوُسْطَى ور لے اور درمیانے جمرہ کے پاس دونوں ہاتھ اٹھانا ١٧٥٢ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ ۱۷۵۲: اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، بتایا۔اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے یونس بن یزید سے، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبد اللہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ثُمَّ يُكَبِّرُ عَلَى والے جمرہ پر سات کنکریوں سے رمی کیا کرتے تھے إِثْرِ كُلّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُسْهِلُ اور ہر کنکری پھینکنے پر اللہ اکبر کہتے۔پھر آگے بڑھتے فَيَقُوْمُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا اور ہموار زمین میں چلے جاتے اور قبلہ رخ ہوکر دیر فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ تک کھڑے رہتے اور دعا کرتے اور دونوں ہاتھوں کو الْوُسْطَى كَذَلِكَ فَيَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ اُٹھاتے۔پھر درمیانے جمرہ پر اسی طرح رمی کرتے۔فَيُسْهِلُ وَيَقُوْمُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا پھر بائیں جانب اختیار کرتے اور ہموار زمین میں طَوِيْلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي آ جاتے اور قبلہ رو ہوکر دیر تک کھڑے رہتے اور دعا الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي کرتے اور بوقت دعا اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔پھر وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا وَيَقُوْلُ هَكَذَا رَأَيْتُ جمرہ عقبہ پر وادی کے نشیب سے رمی کرتے اور وہاں رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظہر تے اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔يَفْعَلُ۔اطرافه: ١٧٥١، ١٧٥٣