صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 425
صحيح البخاری جلد۳ ۴۲۵ ٢٥ - كتاب الحج عَلَى إِثْرِ كُلَّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى کنکری کے پھینکنے کے بعد اللہ اکبر کہتے۔پھر آگے يُسْهَلَ فَيَقُوْمُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَيَقُوْمُ بڑھتے۔یہاں تک کہ ہموار زمین پر آ جاتے اور قبلہ رو طَوِيْلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي کھڑے ہوتے اور دیر تک کھڑے رہتے اور دعا الْوُسْطَى ثُمَّ يَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔پھر درمیانی فَيَسْتَهِلُ وَيَقُوْمُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَيَقُومُ جمره پرمی کرتے۔پھر بائیں جانب اختیار کرتے اور طَوِيْلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُوْمُ ہموار زمین میں آجاتے اور قبلہ رو ہوکر دیر تک کھڑے طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ رہتے اور دعا کرتے اور بوقت دعا اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے۔پھر جمرہ عقبہ پر وادی کے نشیب سے رمی کرتے اور وہاں نہ ٹھہرتے۔پھر فارغ ہو کر واپس ہوتے اور کہتے : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی بَطْنِ الْوَادِي وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُوْلُ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ۔اطرافه: ١٧٥٢، ١٧٥٣ تشریح: طرح کرتے دیکھا۔إِذَا رَمَى الْجَمْرَتين۔۔۔۔: باب ۱۸۸ اور ۹۱ کی تشریح میں وقوف کا مفہوم بتایا جا چکا ہے۔اس بارہ میں باب نمبر ۱۳۹ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے قول کا حوالہ دینے پر اکتفا کیا گیا ہے جو روایت نمبر ۱۷۵۱ میں مفصل منقول ہے۔اس میں قیام کا لفظ ہے وقوف کا نہیں اور قیام میں طویل دعا اور دعا میں ہاتھ اُٹھانے کا ذکر ہے۔اس سے قیام کی نوعیت واضح ہوتی ہے اور رمی کے ذکر کے تعلق میں یہ الفاظ ہیں: وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا۔اس سے بھی مذکورہ قیام کی نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔یعنی یہ کہ دونوں جمرات پر آپ کا قیام وقوف کی صورت میں تھا۔ایام منی میں پہلے دن جمرہ عقبہ سے رمی شروع کی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ہر روز اثنائے قیام میں رمی آخر وقت میں ہوتی ہے۔علامہ ابن حجر اور عینی دونوں کا خیال ہے کہ مسئلہ معنونہ کے بارہ میں انہی کے اختلاف کا ذکر ہے اور یہ کہ اگلے ابواب سے اس کی تائید و وضاحت ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۷۳۵ ) (عمدۃ القاری جلد، صفحه ۹۱ )