صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 28
صحيح البخاری جلد۳ ۲۸ ٢٤ - كتاب الزكاة موجب ہیں ) کے ذریعہ سے حاصل کردہ مال میں سے صدقہ کیونکر قبول ہو سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام زکوۃ کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔بعض لوگ زکوۃ دیتے ہیں مگر اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ یہ روپیہ حلال کی کمائی سے ہے یا حرام کی کمائی سے ہے۔دیکھو اگر ایک کتا ذبح کیا جائے اور اس کے ذبح کرنے کے وقت اللہ اکبر بھی کہا جائے۔ایسا ہی ایک سو ر لوازمات ذبیح کے ساتھ مارا جائے تو وہ کتا یا سو ر کیا حلال ہو جائے گا ؟ وہ تو بہر حال حرام ہی ہے۔زکوۃ تو تزکیہ سے نکلی ہے۔اس کے ذریعے سے مال پاک ہو جاتا ہے کہ انسان حلال کی روزی حاصل کرتا ہے اور پھر اس کو دین کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔انسانوں میں اس قسم کی غلطیاں ہیں کہ اصل حقیقت کو نہیں پہچانتے۔ایسی باتوں سے دست بردار ہونا چاہیے۔ارکانِ اسلام نجات دینے کے واسطے ہیں۔مگر ان غلطیوں سے لوگ کہیں کے کہیں چلے جاتے ہیں۔“ تقریر حضرت مسیح موعود ال ۲۶ دسمبر ۱۹۰۶ ء - البدرہ جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۱۵ جلد ۶ نمبر (۲) باب ۸ : الصَّدَقَةُ مِنْ كَسْبِ طَيِّبِ پاکیزہ کمائی سے صدقہ دینا لِقَوْلِهِ : { يَمْحَقُ الله الرّبوا } وَيُرْ لی کیونکہ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ سو کوگھٹتا تا ہے } الصَّدَقْتِ وَاللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اور صدقوں کو بڑھاتا ہے اور کسی ناشکر گزار بد کار کو پسند اشيد { إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا نہیں کرتا { جولوگ مومن ہیں اور انہوں نے صلاحیت کے کام کئے ہیں اور نماز سنوار کر ادا کی ہے اور زکوۃ الصّلِحَتِ وَاَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا دی ہے، جس اجر کے وہ مستحق ہیں وہ ان کے لئے ان الزَّكُوةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ} کے رب کے پاس موجود ہے ؟ ) اور نہ ان کو (آئندہ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کا خوف ہوگا اور نہ وہ گزشتہ پر غم کھائیں گے۔(البقرة: ۲۷۷-۲۷۸) ١٤١٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ :۱۴۱۰ عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا کہ سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ انہوں نے کہا۔ابو النصر سے سنا۔(وہ کہتے تھے:) لے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری مطبوعہ انصاریہ دہلی، جزء ۶ صفحه ۱۷) یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۳۵۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔