صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 422 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 422

صحيح البخاری جلد۳ ۴۲۲ ٢٥-كتاب الحج مُيُ الْحِمَارِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ : علامہ ابن حجر کے نزدیک بعض غیر مستند روایتوں میں بند قتادہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ مَا ابَالِى رَمَيْتُ الْحِمَارَ بِسِتٍ أَوْ بِسَبْعٍ۔یعنی میں پرواہ نہیں کرتا کہ چھ کنکریوں سے یا سات سے رمی کروں۔باب ۱۳۶ میں اسی روایت کا رڈ کرنا مقصود ہے۔( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۷۳۳ ) اور عنوان باب میں حضرت ابن عمرؓ کا جو حوالہ دیا ہے، اس کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۷۵ از سر باب ۱۴۰۔بَاب ۱۳۷ : مَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ جس نے جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینکیں اور بیت اللہ کو بائیں جانب رکھا ١٧٤٩ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۱۷۴۹ آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَبْدِ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ حکم ( بن عتبیہ ) نے ہم سے الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ ابْن بیان کیا کہ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهُ يَرْمِي عبدالرحمن بن یزید سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ان کو دیکھا کہ وہ بڑے جمرہ پر سات کنکریاں پھینک فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنَّى عَنْ رہے تھے اور بیت اللہ کو آپ نے اپنی بائیں جانب يُمِيْنِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ کیا اور منی کو دائیں جانب اور پھر انہوں نے کہا: یہ مقام اس شخص کا ہے جس پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔عَلَيْهِ سُوْرَة البَقَرَةِ۔اطرافه ١٧٤٧، ۱۷٤٨، ۱۷۵۰ تشريح : مَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ : اس میں معین سمت کا ذکر ہے اور اس جگہ کی تعیین بھی جہاں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں قربانی کے دن جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینکیں تھیں۔حضرت عبداللہ بن مسعود کی محولہ بالا روایت کے لئے ملاحظہ ہو روایت نمبر ۱۷۴۷ زیر باب ۱۳۵۔عطاء بن ابی ربائی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر سات کنکریاں بیک دفعہ پھینکی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۷۳۵ زیر شرح باب (۱۳۸) (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۸۹) گذشتہ باب میں حضرت ابن عمر کا حوالہ جو دیا گیا ہے وہ دیکھئے زیر باب ۱۴۰ روایت ۱۷۵۱ اور یہی مستحب ہے۔روایت نمبر ۱۷۵۰ میں جس درخت کے پاس کھڑا ہو کر رمی کرنے کا ذکر ہے وہاں اب مسجد ہے جو مسجد الشجرة کے نام سے مشہور ہے۔